خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 475

3 MI خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۳۲ء کے سر پھوڑ دو تو بھی ان کی اصلاح نہیں ہو سکے گی۔و پس یاد رکھو اللہ تعالی کا حکم ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا اپنے آپ کو اور اپنی اولادوں کو آگ سے بچاؤ۔اگر تم اندھے ہو کر اپنی اولاد کی اصلاح کا خیال نہیں کرتے تو تم نہ صرف خود جہنم میں جاتے ہو اور اپنی اولادوں کو جنم میں لے جاتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کو بھی جہنم میں ڈالنا چاہتے ہو۔پس وہ لوگ جن کے بچے آوارہ ہیں اور وہ لوگ جن کی عورتیں ایسے بچوں کی حمایت کرتی ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں اور عورتوں کو اگر وہ حدیث العمد ہیں تو نصیحت کریں۔اور انکی اصلاح کے لئے کوشش کریں۔اور اگر ان کی متواتر نصیحتوں کا ان کے بچوں پر کوئی اثر نہ ہو تو وہ انہیں محلے والوں کے سپرد کر دیں کہ ان کی اصلاح کریں۔ایسے موقع پر محلہ والوں کا کام یہ ہے کہ وہ نرمی اور محبت سے انہیں سمجھا ئیں۔گویا والدین کا تو یہ کام ہے کہ وہ اپنے بچوں پر سختی کریں۔اور محلے والوں کا یہ کام ہے کہ وہ ان کے بچوں کے ساتھ نرمی کریں اور ان کی اصلاح سے قبل سب سے پہلے اپنے نفس پر موت وارد کریں۔جس دن انہوں نے اپنے نفسوں پر موت وارد کر کے اور لڑکوں کی آوارگی کے غم میں گداز ہو کر ان کی اصلاح کے لئے قدم اٹھایا ، وہی دن ہو گا جب ان کی آواز میں اثر ہو گا۔اور وہی دن ہو گا جب انکی باتوں میں روحانی قوت دکھائی دے گی۔ورنہ دنیا میں لٹھ کے ساتھ کبھی اصلاح نہیں ہو سکتی۔اگر اصلاح کے لئے جبر کی ضرورت ہوتی تو اس وقت خدا تعالیٰ تمہیں تلوار ضرور دیتا مگر خدا کا تلوار نہ دینا بلکہ پہلی تلوار کا بھی چھین لیتا بتاتا ہے کہ اصلاح کے لئے تلوار اور لاٹھی کام نہیں دے سکتی۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اصلاح تو تلوار سے ہو سکتی۔مگر خدا تلوار تمہارے ہاتھوں سے چھین لیتا اور پھر کہتا کہ اب اصلاح کرو۔یہ تو بیوقوفی کی بات ہوگی۔اگر ہم ایسا تسلیم کریں۔کسی شاعر نے کہا ہے۔درمیان قعر دریا بندم کروہ باز سے کوئی کہ داس تر ممکن ہشیار باش دریا میں ڈال کر یہ کہنا کہ تمہارے کپڑے گیلے نہ ہوں اس پر کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔سو یہ کس طرح ممکن ہے کہ دنیا کی اصلاح تو تلوار کے ساتھ مقدر تھی مگر خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں سے تلوار چھین لی۔اور اگر اصلاح ہو سکتی تو تلوار سے ہی ہو سکتی تھی۔ڈنڈے سے کیا ہونی ہے لیکن تلوار کا چھینا جانا ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی اصلاح کبھی تلوار اور ڈنڈے کے زور سے نہیں ہوئی۔پس وہ چیز جس کو خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں سے چھین لیا اس پر بھروسہ مت کرو۔