خطبات محمود (جلد 13) — Page 451
خطبات محمود ۴۵۱ 55 سال ۱۹۳۲ء ہر کام میں ہمیں دوسروں سے نمایاں غلبہ حاصل ہونا چاہئے (فرموده ۲۰ مئی ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- مؤمن کی ذمہ داریاں اس قدر وسیع ہیں اور اس کے مقاصد اتنے اعلیٰ اور ارفع ہیں کہ دوسرے لوگ ان کا اندازہ کرنے سے بھی قاصر ہیں اور انسانی طاقت ان کے شمار سے عاجز آجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہمارے لئے بجائے ہماری ذمہ داریوں کو تفصیل کے ساتھ گنانے کے اجمال کے ساتھ ان کو ہمارے سامنے رکھدیا ہے کیونکہ ہر انسان کی ذمہ داری دوسرے انسان سے مختلف ہوتی ہے۔ہر قوم کی ذمہ داری دوسری قوم سے مختلف ہوتی ہے ہر جماعت کی ذمہ داری دوسری جماعت سے مختلف ہوتی ہے۔ہر گاؤں کی ذمہ داری دوسرے گاؤں سے مختلف ہوتی ہے اور ہر شہر کی ذمہ داری دوسرے شہر سے مختلف ہوتی ہے پس یہ ممکن ہی نہیں کہ انسانی ذمہ داریوں کو تفصیل کے ساتھ انسانی فہم اور ادراک کے اندر رکھتے ہوئے بیان کیا جا سکے بے شک اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے اور وہ ہر فرد کی ذمہ داریوں کو جانتا ہے ہر جماعت کی ذمہ داریوں کو جانتا ہے ہر قوم کی ذمہ داریوں کو جانتا ہے ہر گاؤں کی ذمہ داریوں کو جانتا ہے اور ہر شہر کی ذمہ داریوں کو جانتا ہے مگر سوال یہ نہیں کہ اس عالم الغیب ہستی کے علم میں یہ تمام ذمہ داریاں ہیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا انسان کے لئے بھی ان تمام ذمہ داریوں کو یکجائی طور پر سمجھنا ممکن ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی قوئی اس قدر محدود ہیں کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی کام کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں اور جب وہ ایک کام کر رہے ہوتے ہیں تو دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں اگر انسان غصے کی حالت میں ہو تو وہ رحم کے جذبات کو بھولا ہوا ہوتا ہے اور اگر وہ محبت کے جذبات لئے ہوئے ہو تو وہ غصے کی کیفیت کو نظر انداز کر دیتا ہے اسی طرح جب حکومت کے جذبات اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں تو انکساری کی حالت اس کے دل سے محو ہو جاتی ہے اور جب رحم