خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 452

۴۵۲ سال ۱۹۳۴ء اور انکساری کے جذبات غالب ہوں تو حکومت کے جذبات دبے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی کی یہ شان نہیں وہ ایک ہی وقت میں عفو بھی کر رہا ہوتا ہے اور رحم بھی سزا بھی دے رہا ہوتا ہے اور انعام بھی اسی وقت اور اسی لمحہ میں جب کہ اس کا ایک بندہ مصیبت اور دکھ میں مبتلاء ہوتا ہے شفقت اور رافت کے جذبات جس چیز کا ہم نام رکھتے ہیں اس قسم کی صفت بھی اس کے لئے ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ جس وقت غضب خدا کی طرف سے نازل ہو رہا ہوتا ہے رحم نازل نہیں ہو تا یا جس وقت رحم نازل ہو رہا ہوتا ہے غضب کی صفت کام نہیں کرتی بلکہ ایک ہی وقت میں دونوں صفات پورے زور اور کامل جلال کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہوتی ہیں اور یہی نہیں کہ مختلف وجودوں پر ان کا ظہور ہوتا ہے یعنی ایک پر اگر رحم کی صفت نازل ہو رہی ہوتی ہے تو دوسرے کے لئے خدا کے غضب کی صفت کام کر رہی ہوتی ہے۔بلکہ بسا اوقات ایک ہی انسان پر ایک ہی وقت میں خدا تعالٰی کی دونوں صفات نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور نازل بھی پورے زور اور قوت کے ساتھ ہوتی ہیں۔اگر ایک انسان پر خدا تعالٰی کی صفت غضیہ کا نزول ہو رہا ہوتا ہے تو اس پر اس کی قوت رحمت بھی نازل ہو رہی ہوتی ہے۔مگر یہ بات اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ وہ مجسم نہیں بلکہ غیر محدود ہے۔جس قدر چیزیں مجسم ہوا کرتی ہیں۔ان کی طاقتیں بھی محدود ہوتی ہیں۔پس گو اللہ تعالی کو تو ان چیزوں کا علم ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام چیزیں بندوں کے علم میں بھی لائی جاسکتی ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان محدود ہے اور وہ طاقتیں بھی محدود لے کر آیا ہے۔پھر محدود وقت میں وہ جس قدر باتیں کرتا اور مختلف کام سر انجام دیتا ہے ان کا پورے طور پر سمجھنا بھی اس کے لئے ناممکن ہے۔مثلاً نہایت ہی قلیل وقت ایک منٹ میں ایک انسان نے اپنا ہاتھ ہلایا۔اگر اس کے ہاتھ ہلانے کا اسے پورا علم دیا جائے اور اس کی اس حرکت سے جو جو تغیرات ہوئے ان کا ایک ایک حصہ اس کے سامنے بیان کرنا شروع کر دیا جائے تو ایک لمبی تفصیل کے بعد وہ اپنے ہاتھ ہلانے کی کیفیت اور اس کے ذریعہ پیدا ہونے والے تغیرات کو سمجھ سکے گا۔لیکن اس نے صرف ہاتھ ہی نہیں ہلایا ہو گا بلکہ اسی طحہ میں پاؤں بھی ہلایا ہو گا۔اور اگر پاؤں کے ملنے اور ایک ایک جوڑ کی حرکت کی تفصیل سامنے رکھی جائے تو ایک لمبا وقت درکار ہو گا۔لیکن یہیں پر بس نہیں ہوگی، بلکہ اسی منٹ میں اس کے پھیپھڑ سے بھی کام کر رہے تھے۔دماغ بھی کام کر رہا تھا اور دل بھی کام کر رہا تھا۔اور باقی اعضاء بھی کام کر رہے تھے۔ان تمام کے ایک منٹ کے