خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 37

خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۱ء عین ممکن ہے بعض لوگ اس سے یہ بات نکال لیں کہ سفر اور بیماری میں جب تک موت کی حالت نہ ہو جائے روزہ نہیں چھوڑنا چاہئے اور اس سے یہ دھوکا لگ سکتا ہے کہ روزہ کے متعلق سفر اور بیماری کے احکام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک قابل قبول نہیں۔حالا نکہ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والے اور آپ کی صحبت سے فیض یاب ہونے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان باتوں میں آپ بڑا زور دیا کرتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے۔غالبا مرز الیعقوب بیگ صاحب جو آج کل غیر مبائع ہیں اور ان کے لیڈروں میں سے ہیں ایک دفعہ باہر سے آئے عصر کا وقت تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زور دیا کہ روزہ کھول دیں اور فرمایا سفر میں روزہ جائز نہیں اسی طرح ایک دفعہ بیماریوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا۔ہمارا مذ ہب یہی ہے کہ رخصتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔دین سختی نہیں بلکہ آسانی سکھاتا ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بیمار اور مسافر اگر روزہ رکھ سکے تو رکھ لے ہم اسے درست نہیں سمجھتے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اول نے مخی الدین ابن عربی کا قول بیان کیا کہ سفر اور بیماری میں روزہ رکھنا آپ جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک ایسی حالت میں رکھا ہوا روزہ دوبارہ رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے سن کر فرمایا۔ہاں ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔پس الفضل میں مندرجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالہ کا یہ مطلب نہیں کہ بیماری اور سفر میں جب تک موت کے قریب انسان نہ پہنچ جائے روزہ نہ چھوڑے۔بلکہ یہ الفاظ بڑھاپے اور عام ضعف کے متعلق ہیں یعنی جب انسان بیمار نہیں بلکہ مثل بیمار ہوتا ہے۔تفقہ کے ذریعے پہلے مسلمانوں نے اور خود رسول کریم ﷺ نے بھی بعض امور کا فیصلہ کیا ہے۔قرآن کریم میں صرف بیمار یا مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔مگر رسول کریم نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ تفقہ سے آپ نے ان کو بھی بیمار کی حد میں داخل کر دیا اور اس طرح جو شخص بمنزلہ بیمار کے ہو اسے بھی اجازت دے دی اور اس کے ماتحت یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان جب بوڑھا ہو جائے یا کمزور ہو تو اس وقت بھی وہ بیمار ہی سمجھا جائے گا۔لیکن بیماری کی بنیاد تو ظاہر حالت پر ہوتی ہے مگر بڑھاپا اجتہاد سے تعلق رکھتا ہے۔بعض حالات میں بڑھاپا اور کمزوری نظر نہیں آتی۔کئی لوگوں کو دیکھا ہے وہ ۳۵٬۳۰ سال کی عمر میں ہی یہ رٹ لگانے لگ جاتے ہیں کہ اب تو ہم