خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 36

خطبات محمود ٣٩ سال ۱۹۳۱ء اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول تشریح کے بغیر رہ جاتا تو کچھ عرصہ کے بعد یہی سمجھا جاتا کہ آپ کا مذہب ہی تھا کہ جتنی شادیاں چاہو کر سکتے ہو صرف تقویٰ کی شرط ہے۔اسی بارہ میں مجھے یاد آیا حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا اعتقاد ایک عرصہ تک یہی تھا کہ چار سے زیادہ شادیاں جائز ہیں۔ان دنوں چونکہ چھوٹی جماعت تھی اور دوست اکثر با ہم ملتے تھے ایسے مسائل پر بڑی لمبی بحثیں ہوتی رہتی تھیں۔انہیں دنوں ایک زمانہ میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا چار بیویوں کی حد بندی شریعت سے ثابت نہیں اور ابو داؤد کی ایک روایت بھی پیش کی جس میں لکھا تھا کہ حضرت امام حسن کے اٹھارہ یا انیس نکاح ہوئے۔اسی مجلس میں کسی نے یہ بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ عقیدہ نہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے یہ خیال کیا ممکن ہے آپ کے پاس یہ معاملہ پوری طرح پیش نہ کیا گیا ہو اس لئے کسی سے کہا یہ کتاب لے جاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ حوالہ دکھا آؤ۔کتاب لانے والا رستہ میں مجھے بھی ملا وہ بغل میں کتاب دبائے نہایت شوق سے جا رہا تھا۔میں نے دریافت کیا کیا بات ہے۔اس نے بتایا حضرت مولوی صاحب نے یہ حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھانے کے لئے بھیجا ہے۔میں بھی جواب کے شوق میں اس کی واپسی کا منتظر رہا۔وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا۔میں نے دیکھا جاتے وقت تو وہ بہت خوش خوش کیا تھا مگر واپس آتے وقت سر جھکائے آ رہا تھا۔میں نے پوچھا کیا بات ہے تو اس نے بتایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب سے جاکر پوچھو کہاں لکھا ہے کہ یہ ساری بیویاں ایک ہی وقت میں تھیں اور بات بھی یہی ہے۔ایک تاریخ نویس تو جب لکھے گا یہی لکھے گا کہ فلاں شخص نے اتنے نکاح کئے۔آگے سوچنے سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ سب ایک ہی وقت میں کئے یا بعض ان میں سے پہلی بیویوں کی وفات پر کئے۔پس تفقہ کے ساتھ مسائل کی شکل بدل جاتی ہے۔آج جو الفضل کا پرچہ شائع ہوا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ درج ہوا ہے۔جس کے متعلق مجھے خطرہ ہے کہ اسے صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے کسی کو ٹھوکر نہ لگے اور وہ یہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ” میری تو یہ حالت ہے کہ مرنے کے قریب ہو جاؤں تب روزہ چھوڑتا ہوں۔طبیعت روزہ چھوڑنے کو نہیں چاہتی۔یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے نزول کے دن ہیں۔"