خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 384

خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۲ء اپنے اندر نیک خصائل پیدا کر سکتا ہے۔وہ گر کیا ہے ؟ وہ وہی ہے جو سورۃ فاتحہ سے شروع کیا گیا ہے۔یعنی الحمد اللہ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو چاہئے وہ ہمیشہ یہ یقین رکھے اور خوش ہو کہ اس کو خدا نے پیدا کیا ہے اور اس خدا نے پیدا کیا ہے جو کہ رب العلمین ہے۔اور اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اسے ترقی دے کر اونچے مرتبہ پر پہنچائے۔رب العلمین کہہ کر اللہ تعالٰی نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ وہ خدا کسی ایک طبقہ یا جماعت کا خدا انہیں بلکہ تمام قوموں اور ساری جماعتوں کا رب ہے کیونکہ جب کسی شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا کسی خاص قوم کا ہے تو اس وقت لازماً اس کے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ خدا کسی خاص فرد کا بھی خدا ہے۔اگر خدا عیسائیوں کا ہے اور یہودیوں کا نہیں یا مسلمانوں کا ہے اور ہندوؤں کا نہیں۔یا اگر وہ ان قوموں کے ساتھ اپنے عام سلوک میں فرق کرتا ہے تو پھر انسانوں میں بھی وہ فرق کر سکتا ہے۔تب بالکل ممکن ہے۔خدا زید کا ہو مگر بکر کا نہ ہو یا میرا ہو مگر غیر کا نہ ہو اور اگر خدا میرا ہی ہے اور دو سرے کا نہیں تو دوسرے کے لئے مایوسی ہی مایوسی ہے اور وہ کسی وقت خوش نہیں ہو سکتا اور نہ اپنی ہمت بلند کر سکتا ہے کیونکہ وہ کہے گا میرا تو خدا نہیں بلکہ فلاں کا ہے۔پس قرآن مجید نے رب العلمین کہہ کر اس مایوسی کے دروازے کو بند کر دیا کیونکہ مایوسی کے مٹانے کا یہ طریق ہے کہ انسان ہمیشہ اس بات پر یقین رکھے کہ خدا رَبُّ العلمین ہے۔وہ ہندوؤں کا بھی خدا ہے اور عیسائیوں کا بھی، مسلمانوں کا بھی اور غیر مسلموں کا بھی ، گوروں کا بھی اور کالوں کا بھی ، مشرق والوں کا بھی اور مغرب والوں کا بھی ، وہ رب العلمین خدا ہے۔اس کی ربوبیت کی نسبت تمام۔جہان والوں کی طرف ہے اور وہ تمام بنی نوع انسان کا خدا ہے۔بس رب العلمین کہہ کر مایوسی کے ایک دروازہ کو بند کر دیا۔پھر مایوسی کا دوسرا رستہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خیال کرے کہ گو خدا سارے لوگوں اور تمام زمانوں کا خدا ہے لیکن کیا اس کا یہ منشاء ہے کہ وہ ہمیں ترقی دے یا کیا اللہ تعالی میں یہ طاقت ہے کہ وہ ہمارے لئے ترقیات کے سامان مہیا فرمائے۔ہم خدا کو مانتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا خدا میں ایسی طاقتیں ہیں کہ وہ بنی نوع انسان کی۔مایوسی اور تاریکی کو مٹاکر ان کی ترقیات کے لئے نئے سے نئے سامان پیدا فرماتا ہے۔اس کا جواب بھی اللہ تعالٰی نے رب العلمین کے الفاظ میں ہی دے دیا کہ رب کے معنی ہیں ایسی ہستی جو ادنی حالت سے ترقی دیتے دیتے انسان کو انتہائی کمال تک پہنچا دے۔پس جب ہم اپنے خدا کو رب العلمین کہتے ہیں تو ہمارے لئے مایوسی کا دوسرا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے اور ہم یقین کر لیتے