خطبات محمود (جلد 13) — Page 29
خطبات محمود ۲۹ ال ۱۹۳۱ء تیار ہو جانا۔گو یا خد اتعالیٰ کے ان تمام وعدوں پر اپنے ہاتھ سے چھری پھیر دینا تھا۔وہ کامیابیاں جو حضرت اسماعیل" سے متعلق تھیں جب ہمیں یاد ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ضرور یاد ہوں گی۔مگر ان سب کی حضرت ابراہیم نے کوئی پرواہ نہ کی۔بیٹے کی قربانی کوئی بڑی چیز نہیں۔اگر حضرت ابراہیم " صرف بیٹے کی قربانی کرتے تو ان کے مقام اور مرتبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اسے اتنی اہمیت دینے کے لئے تیار نہ تھے مگر جو چیز حیرت میں ڈالنے والی ہے وہ حضرت اسماعیل کی قربانی ہے۔ہر بیٹا اسماعیل نہیں ہو سکتا۔ایسا بیٹا اربوں بلکہ سینکڑوں اربوں میں سے کوئی ایک ہی ہو سکتا ہے۔وہ وہ بیٹا تھا جس نے ہمیشہ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عزت کو قائم کرنا اور جس کی نسل سے اس عظیم الشان نبی نے پیدا ہو نا تھا جس کا فیضان قیامت تک جاری رہنے والا تھا۔گویا اس بیٹے کی زندگی قیامت تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے نیکی قائم رکھنے والی تھی۔آپ نے ایک رؤیا دیکھا اور اسے ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔گو یا خد اتعالیٰ کے ایک حکم پر سب کچھ قربان کر دیا۔جب ایک عمل کے نتیجہ میں جنت حاصل ہو سکتی ہے تو اس کے ثواب کا کیا اندازہ ہو۔ہو سکتا ہے جسے اربوں جنتیوں کا ثواب ملنا تھا۔مگر وہ اس بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔گویا خدا کے لئے اربوں جنتوں کو قربان کرنے کے لئے رضامند ہو گئے۔پس جب انہوں نے ایسی عظیم الشان قربانی کی تو خدا تعالیٰ نے کہا ہم بھی اس دن کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور در حقیقت عید الاضحی کے دن ہم اس قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور اس دن کو عید بنا کر خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ خاص فضلوں کا دن ہے۔اس دن ہمارا افضل خاص جوش میں ہو تا ہے کیونکہ اس دن ابراہیم نے ہماری رضا کے لئے اسماعیل کے گلے پر چھری پھیر نی چاہی تھی۔تو اللہ تعالی کے حضور بڑی خدمات کو بڑے دنوں کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے دو عید میں مقرر کی ہیں اور اسلام کی ہر بات تمام زاویوں کے لحاظ سے مکمل ہوتی ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں قربانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں یعنی انفرادی اور قومی قربانیاں۔ان دونوں کی یاد میں خدا تعالیٰ نے دو عیدیں رکھیں۔عید الاضحی انفرادی قربانی کی یاد ہے اور عید الفطر قومی قربانی کی۔جس کے یہ معنے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے مل کر ایک بڑا کام کیا ہے اور ایک قوم کی قوم نے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو فاقوں میں ڈال دیا پس عید الاضحی فردی قربانی کی عید ہے اور عید الفطر قومی قربانی کی۔ایک یہ بتاتی ہے کہ اگر ساری قوم مل کر کوئی بڑا کام کرے تو خدا تعالٰی اسے نہیں بھلاتا اور دوسری یہ سکھاتی ہے کہ خدا تعالی انفرادی قربانی کو بھی نہیں بھلاتا۔رمضان اپنے اندر بڑی برکتیں رکھتا ہے