خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 326

سال ۱۹۳۲ء خطبات محمود تو دوسری طرف اس کی تربیت میں بھی کمی آجاتی ہے۔کیونکہ جب بھی تبلیغ سرد پڑ جائے گی اسی وقت تربیت بھی سرد پڑ جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کے مظالم دکھ اور تکالیف مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یہ تکالیف ہی ایسی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت لا کر مومن کو اللہ تعالیٰ کا مینی مشاہدہ کرا دیتی ہیں۔تب وہ ایمان حاصل ہوتا ہے جو خطرے سے بچاتا اور تمام لغزشوں سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔پس میں تبلیغ کے لئے اگر چہ پہلے بھی کئی بار احباب کو توجہ دلا چکا ہوں ، مگر اب پھر توجہ دلاتا ہوں اور دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنی سستی کو دور کریں اور اس جوش سے تبلیغ کا کام کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال لاکھوں آدمی سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہو جائیں۔اس سال علاوہ تبلیغ کے میں ایک نئی بات بھی احباب کے سامنے رکھتا ہوں اور وہ یہ کہ وہ خاندان جس میں رہنے والوں کا آپس میں جھگڑا رہتا ہو کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔جب ایک گھر معمولی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے اپنی طاقتوں کو کمزور کر دیتا ہے تو اگر ایک جماعت میں لڑائی جھگڑا ہو تو یہ کس قدر قابل افسوس بات ہو گی۔مجھے نہایت ہی افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت میں اتحاد عمل کی روح پیدا نہیں ہوئی اور کئی لوگ بہت معمولی اور ادنی ادنی باتوں پر آپس میں لڑتے اور ایک دو سرے سے ناراض رہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہم اس نئے سال کو اس غرض کے لئے وقف کر دیں کہ جماعت سے تمام لڑائیاں، جھگڑے، تفرقے اور عناد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مٹادیں۔میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں اور میرا دوست وہی ہو سکتا ہے جو میری باتوں کو مانے اور ان پر عمل کرے کہ جو اپنے دوسرے بھائی سے کسی وجہ سے نہیں بولتا یا اس سے عداوت اور بغض رکھتا ہے ، وہ میرا یہ خطبہ سننے اور پڑھنے کے بعد فوراً اپنے بھائی کے پاس جائے اور اس سے خلوص دل کے ساتھ صلح کرے۔اور آئندہ کے لئے کوشش کرے کہ آپس میں کوئی لڑائی اور جھگڑا۔اپیدا نہ ہو۔اللہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ دلوں کا مل جانا بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔اور فرماتا ہے۔قرآن اور رسول کے ذریعہ ہم نے تمہارے دلوں میں اتحاد پیدا فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہ اِخْوَانَا۔ہے پس تم خدا کی اس نعمت کے ذریعہ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔وہی کلام اور وہی رسول آج بھی ہم میں موجود ہے۔اور گو رسول کریم میم کی ذات ہم میں موجود نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے فیوض جاری رکھنے کے لئے آپ کا ایک برد زہم میں مبعوث کیا اور وہ اس قدر حدیث العمد اور قریب کے زمانہ میں آیا ہے کہ ابھی ہم میں سے سینکڑوں اسے ا کر دیا۔