خطبات محمود (جلد 13) — Page 300
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء اپنے فرائض کو نظر انداز نہ کریں۔میں نے کئی دفعہ باہر شہروں میں دیکھا ہے کہ بہت سے ننگے سر ننگے پیر اور نیلے کپڑے پہنے ہوئے سندھی لوگ دور دور سے پیدل چل کر آتے ہیں تا کسی بزرگ کی قبر کی زیارت کر سکیں حالا نکہ اب کیا ہے ان کی قبروں میں وہ صرف نشان ہیں اس شان و شوکت کا جو کسی زمانہ میں ایک بزرگ کی وجہ سے ظاہر ہوئی مگر اب معدوم ہے۔مگر یہ جلسہ سالانہ نشان ہے اس شان و شوکت کا جو زندہ ہے اور ہمیشہ دائم و قائم رہے گی۔پھر وہ ظہور وقتی اور مقامی حیثیت رکھتا ہے اور عالمگیر صورت اسکی نہیں تھی۔مگر یہ وہ ظہور ہے جس کا قیامت تک سلسلہ جاری رہے گا اور جو تمام زمانوں پر حاوی ہے۔پھر وہ رسول کریم میں کی کسی ایک صفت کو ظاہر کرنے والا ظہور تھا مگر یہ آپ کے سارے جلال کو ظاہر کرنے والا ظہور ہے پس ان دونوں کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔مگر لوگ ہیں کہ پانچ پانچ سو میل سے پیدل چل کر ان قبروں کی زیارت کے لئے آتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت روکوں کو دور کر دیا کرتی ہے۔اگر دل میں اخلاص ہو ، دل میں درد ہو دل میں محبت ہو تو خواہ کتنی بڑی مشکلات سامنے آجائیں وہ ایک حقیر اور ذلیل چیز نظر آتی ہیں اور انسان انتہائی حقارت سے انہیں ٹھکرا دیتا ہے مگر اس کے لئے ضرورت ہے کہ عشق کی چنگاری دل میں روشن ہو ، ضرورت ہے کہ خشک فلسفہ دماغ پر غالب نہ ہو اور ضرورت ہے کہ محبت دل میں گد گدیاں لے رہی ہو۔اگر انسان کی یہی حالت ہو تو پھر مشکلات کے پہاڑ بھی اگر اس کے سامنے آجائیں تو وہ ٹل جاتے ہیں، دریا آجائیں تو خشک ہو جاتے ہیں اور انسان ان پہاڑوں کو عبور کرتا ہوا اور دریاؤں کو چیرتا ہوا اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کا محبوب و مطلوب ہو۔مگر یہ اسی وقت ہوتا ہے جب محبت کو نظر انداز نہ کیا جائے ، جب اخلاص کو آنکھوں سے اوجھل نہ کیا جائے، جب عشق کی چنگاری دل میں روشن رکھی جائے اور اگر ایسا ہو تو تمام روکیں نہایت ہی بے وقعت اور ذلیل نظر آتی ہیں اور انسان نہایت آسانی کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے سکتا ہے۔پس باوجود ان روکوں کے جو اس سال ہماری جماعت کے احباب کے راستے میں حائل ہیں میں سمجھتا ہوں کہ احمدیہ جماعت نہ صرف اسی اخلاص اور محبت سے جلسہ سالانہ پر آسکتی ہے جس طرح پہلے جلسوں میں شامل ہوتی رہی بلکہ پہلے سے زیادہ تعداد میں آسکتی ہے اور میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ جس طرح ہماری جماعت کے احباب ہر سال جماعت کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنے ہمراہ لایا کرتے ہیں اسی طرح اس سال بھی آئیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ پہلے سالوں