خطبات محمود (جلد 13) — Page 299
2 خطبات محمود 1992 سال ۱۹۳۱ء رہتے ہیں اور بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ جس طرح اور جلسوں میں لوگ تقریریں کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی تقریر میں ہوتی ہیں مگر ان جلسوں کی شمولیت میں ہم وہ برکات نہیں سمجھتے جو اس جلسہ میں شامل ہونے سے حاصل ہوتی ہیں۔دراصل اس جلسہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک قسم کے حج کے مشابہ قرار دیا ہے۔اصل حج تو وہی ہے جو رسول کریم کے وقت تھا اور قیامت تک می جاری رہے گا مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ اس اجتماع کو اللہ تعالٰی نے حج کے مشابہ ضرور قرار دیا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق ނ ارض حرم ہے اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ قادیان وہ زمین ہے جس میں خدا کے ارشاد کے ماتحت لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور یہ ان کا اکٹھا ہونا ویسا ہی ہے جیسے ارضِ حرم میں لوگ ہر سال اکٹھے ہوتے ہیں پس یہ اجتماع ارض حرم کے اجتماع کے مشابہ ہے۔یہ حج نہیں ہو تا مگر حج کے مثل ضرور ہوتا ہے اور ان دنوں قادیان مکہ نہیں بن جاتا مگر مکہ والی برکات یہاں بھی نازل ہونے لگتی ہیں۔پس یہ جلسہ کے ایام معمولی برکات کے دن نہیں بلکہ بہت بڑا ثواب اور اللہ تعالیٰ کے حضور بلند درجات حاصل کرنے کے دن ہیں۔اور اب جبکہ جلسہ سالانہ قریب آرہا ہے تمام جماعتوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ قادیان پہنچیں اور ہر احمدی کو خواہ وہ کسی گوشہ دنیا میں کیوں نہ پڑا ہو مگر اسکے لئے ان دنوں قادیان پہنچنا ممکن ہو یہ عزم کر لینا چاہئے کہ وہ جلسہ میں ضرور شامل ہو گا۔میں اپنی جماعت کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ثواب حاصل کرنے کے دن ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات جذب کرنے کے دن ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کے حضور درجات حاصل کرنے کے دن ہیں اب ان کا کام ہے کہ وہ چاہیں تو اس جلسہ میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رحمتوں سے حصہ وافرلیں اور چاہیں تو اس میں شامل نہ ہو کر ایک ثواب کے موقع سے محروم رہ جائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گذشتہ ایام میں چندہ خاص کی وجہ سے جماعت کو مالی تنگی ہے اور اس موقع پر اور روپیہ خرچ کر کے آنا ایک بوجھ سا معلوم ہوتا ہے۔خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا میں مالی تنگی کا دور دورہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یہ روکیں مومن کے راستہ میں حائل نہیں ہونی چاہئیں۔ہم تو ایک خدا کے مامور کی تیار کردہ جماعت ہیں ہمارے راستہ میں تو جو بھی مشکلات آئیں ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں عبور کر جائیں اور کبھی بھی مشکلات سے ڈر کر