خطبات محمود (جلد 13) — Page 25
خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۳۱ء پچھلے دنوں باہر سے ایک نوجوان یہاں آیا ہوا تھا۔اس کا اپنی بیوی سے کچھ جھگڑا تھا۔اس نے مجھے لکھا ایک بزرگ نے مجھے کہا ہے اگر تمہارا کہنا نہیں مانتی تو ڈنڈا لے کر سیدھا کرو یہ پڑھ کر مجھے تو شرم ہی آئی کہ کس طرح ایسے شخص کو بزرگ سمجھ رہا ہے جو بیوی کو مارنے کی تلقین کرتا ہے بزرگی اسلام کی تعلیم جاری کرنے میں ہے نہ کہ رد کرنے میں۔ممکن ہے کوئی شخص بیوی کو مار کر چپ کرا دے مگروہ بیوی کو نہیں دراصل اسلام کو مارتا ہے۔کیونکہ وہ عورت اور اس سے تعلق رکھنے والی دوسری عورتیں ایسے مذہب سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔پھر مارنے سے ممکن ہے اس کے گھر میں تو امن ہو جائے مگر وہ اسلام کے گھر کو اجاڑنے کی کوشش کرے گا۔پس وہ بزرگ کہلانے والے اگر اس وقت یہاں موجود ہوں تو وہ سن لیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بزرگ نہیں بلکہ خورد سے بھی چھوٹے ہیں۔دنیا میں انصاف عدل اور رحم سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے جب تک یہ نہیں اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔غرض عورتوں کو تعلیم بھی دینی چاہئے ، اچھی تربیت بھی کرنی چاہئے اور آزادی بھی جس حد تک اسلام نے دی ہے دینی چاہئے بلکہ اسلام نے تو آزادی ہی دی ہے اس لئے یوں کہنا چاہئے کہ جس حد تک اس نے قید کا حکم دیا ہے اس سے زیادہ کے لئے مردوں کو کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ جیسے دماغ ہمارے ہیں ویسے ہی عورتوں کے بھی ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کے لوگ عموماً اور باہر کی جماعتیں خصوصاً اس طرف متوجہ ہوں گی۔کئی کام ایسے ہیں جن میں مرکزی جماعت کو زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے اور کئی ایسے ہیں جن میں باہر کی جماعتوں کو زیادہ متوجہ ہونا ضروری ہوتا ہے اور یہ بات زیادہ تر باہر کی جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے۔انہیں چاہتے کہ عورتوں کو پردہ وغیرہ کے مسائل اچھی طرح سمجھا کر اور پوری طرح مطمئن کر کے ان کے ذریعہ خلاف اسلام خیالات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔اگر ہم نے مردوں پر فتح پانی ہے تو یقینا عورتوں سے شکست نہیں کھا سکتے اور اگر عورتوں سے شکست کھا گئے تو مردوں پر ہماری فتح بھی جھوٹی ہوگی اس میں کیا شک ہے کہ مرد کو خدا تعالیٰ نے نسبتاً زیادہ قوت دی ہے اور اسے قوام ٹھرایا ہے۔پس اگر دلائل کے میدان میں ہم نے مردوں کو فتح کر لیا ہے تو یقیناً عورتوں کو بھی کرلیں گے۔پس چاہئے کہ باہر کے شہروں کی جماعتیں اپنی عورتوں کو اچھی طرح اسلام سے واقف و آگاہ کر کے کوشش کریں کہ وہ دوسری عورتوں سے مل کر ان کے خیالات کی اصلاح کریں وگرنہ اگر یہ کرو زیادہ بڑھی تو اس کا مقابلہ مشکل ہو گا۔ابتداء میں جو کام آسانی سے ہو سکتا