خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 283

ا خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۱ء مجھ پر بڑا احسان کیا۔پس گو اس فیصلہ میں بظا ہر فتح کشمیری مسلمانوں یا ان کے ہمدردوں کی نظر آتی ہے مگر در حقیقت یہ مہاراجہ کی فتح ہے کیونکہ جس دن سے انہوں نے اپنی رعایا کو انسانیت کے ابتدائی حقوق دے دیئے اور رعایا ان سے خوش ہو گئی اسی دن سے ان کی حکومت مستحکم ہو گئی اور وہ حقیقی طور پر مہاراجہ کہلانے لگے کیونکہ جبر دنیا میں انسان کو کبھی معزز نہیں بنا تا جو چیز انسان کو اعزاز دیتی اور اسے رفعت و عزت کا وارث بناتی ہے وہ محبت اور حسن سلوک ہے۔دنیا میں کتنے ہی بڑے بڑے بادشاہ گذرے ہیں لیکن آج ان کی کوئی وقعت نہیں اور لوگوں کی نظر میں ان کی معمولی قدر و قیمت بھی نہیں لیکن اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جنہوں نے نبوت یا بادشاہت کے لحاظ سے دنیا میں انصاف کیا اور ظلم و جفا کو مٹایا آج دنیا ان کی تعریف میں رطب اللسان ہے نوشیرواں کون تھا ایک کافر سلطنت کا بادشاہ تھا اس کی حکومت سے بعد میں مسلمانوں نے جنگیں کیں اور اس کی سلطنت کی جڑیں اکھیڑ دیں لیکن نوشیرواں کی تعریف کرنے والے بھی مسلمان ہی ہیں اور خود رسول کریم میں نے فرمایا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری پیدائش اس کے زمانہ میں ہوئی۔پس گو نوشیرواں اس تخت کا مالک تھا جس کے خلاف مسلمانوں کو لڑائی لڑنی پڑی نوشیرواں اس تخت کا مالک تھا۔جس کے ایک مالک نے مسلمانوں کو دکھ پہنچایا مگر باوجود اس کے کہ وہ ایک دشمن خاندان کا فرد تھا۔پھر بھی تمام مسلمان اس کے عدل و انصاف کی تعریف کرتے اور اسے مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔حاتم طائی کون تھا ایک معمولی رئیس سے زیادہ اس کی وقعت نہیں تھی مگر آج اس کا نام اس حد تک مشہور ہے کہ گاؤں کے ان پڑھ لوگ بھی بعض دفعہ طنز دو سرے کو کہہ دیا کرتے ہیں ”بڑا حاتم بنا پھرتا ہے "وہ ایک معمولی نمبردار تھا مگر اس کے حسن سلوک اور سخاوت کا یہ اثر ہے کہ آج بچہ بچہ اس کے نام سے واقف اور اس کی تعریف کرتا ہے۔گاؤں کے ادنی اونی لوگوں سے ملوان کے سامنے نپولین کا ذکر کرو تو وہ اس سے ناواقف ہوں گے لیکن ذرا سخاوت کا ذکر چھیڑ دو تو وہ فورا کہہ اٹھیں گے کہ فلاں شخص تو حاتم ہے ، چلے جاؤ ان گاؤں میں جو ریل سے دور ہیں جہاں کے باشندے تعلیم یافتہ نہیں اور جو معمولی علوم سے بھی واقفیت نہیں رکھتے ان میں سے بھی کسی کا نام حاتم ہو گا حالانکہ یہ کوئی اسلامی نام نہیں محض اس لئے کہ وہ سخاوت اور وفا میں مشہور ہے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں حالانکہ اس کی حیثیت ایک نمبردار سے زیادہ نہیں تھی۔اس کی حالت کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کی بیوی نے اس لئے اس سے طلاق کی خواہش کی تھی کہ وہ اسے مالی