خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 266

خطبات محمود نہیں ہو سکتا۔مایوس ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو سمجھے فلاں چیز ہے نہیں یا اگر ہے تو سہی مگر مجھے میسر نہیں آسکتی لیکن جب وہ الحمد اللہ کے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پاس سب خزانے ہیں تو نہ ہونے کا تو ازالہ ہو گیا اب آگے میر آنے یا نہ آنے کا سوال رہ گیا اور جب وہ رَبِّ الْعَلَمِينَ " کہتا ہے تو اسے یہ بھی یقین ہو جاتا ہے کہ ہر چیز مجھے مل بھی سکتی ہے اور اس طرح مایوسی کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہ سکتی۔پس اگر صحیح طریق پر اس سورۃ کا مطالعہ کیا جائے تو انسان ایسے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو خود پسندی و کبر جس کے نتیجہ میں ظلم اور غضب پیدا ہوتا ہے نزدیک نہیں آنے پاتا اور دو سری طرف انکسار جسے مایوسی کہتے ہیں دور ہو جاتی ہے۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سے اس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ سے مانگنا چاہئے کیونکہ وہ کتب العلمین ہے اور سب کو دیتا ہے پس تمہیں ایسا خدا ملا ہے جو ضرورتوں کو پورا کرتا اور مانگنے پر دیتا ہے۔دنیا میں ایسے بادشاہ ہوتے ہیں جو خود بخود تو انعام دیتے ہیں لیکن جب ضرورت کے وقت مانگا جائے تو اس مطالبہ کو منظور نہیں کرتے جیسے حکومت برطانیہ ہی ہے۔یوں تو ہندوستان کی فلاح و بہبود اور قیام امن کے لئے پوری پوری کوشش کرتی ہے لیکن جب ہندوستانیوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں فلاں فلاں حق دو۔تو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اچھا غور کریں گے کہ مصلحت ہے یا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی حکومت ایسی نہیں وہ اپنے اندر جمہوریت کا رنگ رکھتی ہے باوجودیکہ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے مگر اس نے خود کہہ دیا ہے کہ تم مانگو اور اگر تمہارے مطالبات تمہارے لئے اچھے اور فائدہ مند ہوں گے تو میں انہیں پورا کر دوں گا۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ جہاں مایوسی اور ناقص انکسار سے بچے وہاں کبر اور خود پسندی کو بھی پاس نہ آنے دے اور خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنی رحمتوں کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور ہر شخص دعا کرے کہ وہ ان میں داخل ہو سکے کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تم کھٹکھٹاؤ تمہارے لئے کھولا جائے گا۔جو ان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل ہو تو داخل بھی ہو جاتا ہے۔(الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۳۱ء) ال الفاتحة ٢ ٣ متی بابے آیت سے بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء ( مفهوماً) I