خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 257

خطبات محمود ۲۵۷ 29 سال ۱۹۳۱ء کامل جماعت وہی ہو سکتی ہے جو ہر قسم کی قابلیتیں ظاہر کرے (فرموده ۲۵- ستمبر ۱۹۳۱ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن کریم کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رب العلمین بیان کی ہے جس کے بیان کرنے میں خاص حکمتیں ہیں۔بہت سی روحانی حکمتوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنے بندہ کے سامنے اس کا مقصد اس کی پیدائش کی غرض اور اسکی منزل مقصود بیان کی ہے۔ہم اگر انسانی فطرت پر گہری نگاہ ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ انسان کے اندر انواع و اقسام کی قابلیتیں ہیں جس پیشہ یا جس علم یا فن یا ہنر کی طرف اس نے توجہ کی اسے ایسی ترقیات نصیب ہوئی ہیں کہ دیکھنے والے حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔روحانیات کی طرف اگر انسان نے قدم اٹھایا تو انبیاء جیسے وجود اس میں پیدا ہوئے ، فلسفہ کی طرف اگر قدم اٹھایا تو افلاطون جیسے انسان اس میں پیدا ہوئے، سائنس کی طرف اگر توجہ کی تو ڈارون اور نیوٹن جیسے انسان پیدا ہوئے غرض جس جس علم کی طرف انسان نے توجہ کی اس کو اپنے ممکن کمال تک پہنچا دیا۔پھر جس وقت لوگ اس خیال میں مبتلاء ہو گئے کہ اب دنیا اپنے ممکن کمال کو پہنچ گئی ہے تو کوئی اور ایسا انسان پیدا ہو گیا جس نے پہلی تمام تحقیقاتوں کو پہلا زینہ قرار دے کر مزید ترقیات شروع کر دیں۔خدا تعالیٰ کا قانون قدرت نئے نئے اسرار پیدا کرتا ہے اور اس پر حکومت کرنے والا انسان ان کا انکشاف کرتا جاتا ہے گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دو قدرتیں پیدا کی ہیں جن کے اندر آنکھ مچولی کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ایک قانون بار یک درباریک اسرار پیدا کرتا جاتا ہے اور دوسرا نجس اور انکشاف میں لگا ہوا ہے ایک قانون یہ ہے کہ اسرار چھپتے ہیں اور دوسرا یہ کہ انسان ان کی تلاش کرتا ہے اور اس