خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 220

۲۲۰ سال ۱۹۳۱ء ہیں اور میں سمجھتا ہوں جو کام اس وقت ہمارے مصنف اور محرر کر رہے ہیں اس سے دو گنا کر سکتے ہیں اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طرز تحریر کو اختیار کریں۔اس وقت پرانے لوگوں کا طرز تحریر اور ہے اور نئے لوگوں کا اور ہر ایک کا جداگانہ طرز ہے اور ہر شخص اپنے رنگ میں چل رہا ہے جس سے قومی لٹریچر کی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔اگر قومی حیثیت سے جماعت کسی طرز تحریر کو اختیار کر سکتی ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طرز تحریر ہے۔اس کو چھوڑ کر اگر ہر کوئی اپنا جداگانہ طریق اختیار کرے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جماعت کسی کی بھی نقل نہیں کرے گی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کسی اور کی یہ پوزیشن نہیں کہ جماعت اس کی نقل کرے۔اگر ہر ایک کی طرز تحریر علیحدہ ہو تو سلسلہ کا طرز تحریر کوئی نہ ہوگا حالا نکہ ہونا یہ چاہئے کہ ہمارے مصنف کی تصنیف کو پڑھ کر خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی یا ادبی یا کسی اور موضوع پر ہو نوے فیصدی یہ پتہ لگ جائے کہ یہ کسی احمدی کی تصنیف ہے۔اس کے اندر سنجیدگی، وقار ، سلاست اور روانی ایک جگہ جمع ہونی چاہئے۔اس کے اندر ایک طرف امید کو بڑھایا جائے تو دوسری طرف خشیت پیدا کرنے کا خیال رکھا جائے یہ نہیں کہ ایک چیز کو بڑھایا اور دوسری کو مٹا دیا جائے۔وہ ایک ایسی نہر کی طرح ہو جو باغ کے درمیان میں سے گزرتی ہے اور دائیں بائیں دونوں طرف سیراب کرتی ہے۔اس کے کناروں پر درخت ہیں جس کے سایہ میں لوگ آرام کرتے ہیں۔اگر ہمارے دوست ایسی طرز تحریر اختیار کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں اگر دنیا اس کی نقل نہ کرے تو کم از کم محسوس ضرور کرنے لگ جائے گی کہ یہ نیا طرز تحریر ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں قائم کیا ہے۔اور یہ صورت یقیناً ہمارے لئے زیادہ با برکت زیادہ مفید اور زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوگی یہ معمولی بات نہیں ہے۔اس موقع پر میں مثالیں دے کر نہیں سمجھا سکتا۔اس کا آسان گریہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی کتاب کو اٹھاؤ اور اس کے دس صفحے پڑھ جاؤ پھر آج کل کے کسی احمدی مصنف کی کتاب کے دس صفحے پڑھو صاف پتہ لگ جائے گا کہ نمایاں فرق ہے۔لیکن اگر کسی میری تصنیف کے دس صفحے پڑھو تو صاف معلوم ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طرز تحریر کی نقل ہے کیونکہ میں نے جس وقت سے قلم اٹھایا ہے ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھا ہے سوائے کسی خاص موقع کے جہاں کوئی اور بات مد نظر ہو اور روانی اور سلامت وغیرہ مد نظر نہ ہوں جسے عام کتابوں اور تحریروں میں شامل نہیں کیا جا سکتا بلکہ جدا گانہ موقع اور محل ہوتا ہے۔ایسی تحریروں کو چھوڑ کر