خطبات محمود (جلد 13) — Page 213
خطبات محمود ۲۱۳ سال ۱۹۳۱ء میں نے اسے پڑھا۔اس کے نیچے میرزا سلطان احمد لکھا ہوا تھا۔مگر پڑھنے اور یقین ہونے کے باوجود کہ یہ مرزا اسلطان احمد صاحب نے ہی رقعہ لکھا ہے مجھے شبہ ہوا کہ یہ کسی اور نے نہ لکھا ہو کیونکہ وہ رقعہ اس قدر مخلصانہ انداز میں لکھا ہوا تھا اور اس قدر ادب اور احترام اس میں پایا جاتا تھا جس طرح پرانے مخلص احمدی خط لکھا کرتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ انہیں ایسی حالت میں بیعت کی توفیق ملی جب ان کے قومی مضمحل ہو چکے تھے اور دوسروں کو ہی چارپائی سے اٹھانا پڑتا تھا۔اور دوسروں کو بہی کھلانا اور پلانا پڑتا تھا۔مگر ہدایت دماغ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ظاہری جسم کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی۔چنانچہ رسول کریم م ا ا ا لاول نے اسی لئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی اس وقت تک تو بہ قبول فرماتا ہے مَا لَمْ يُغَر غر جب تک نزع کی حالت نہیں آتی۔گویا جب تک اس کا دماغ معطل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ دماغ کے موت کے اثر سے متاثر ہو جانے سے پہلے پہلے ہر شخص کی توبہ قبول کر سکتا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے عین وفات کے قریب انہیں بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔بیعت کے بعد ان کے اندر اس قدر اخلاص پیدا ہو گیا تھا کہ مرزا سلطان محمد صاحب جب ایک دفعہ قادیان آئے تو بعض دوستوں اور میاں بشیر احمد صاحب کو بھی خیال آیا کہ انہیں تبلیغ کرنی چاہئے۔چونکہ مرزا سلطان احمد صاحب سے ان کے پرانے تعلقات تھے اس لئے انہیں تحریک کی گئی کہ وہ مرزا سلطان محمد صاحب کو تبلیغ کریں۔چونکہ آپ چل نہیں سکتے تھے اس لئے دو آدمیوں کا سہارا لے کر اس مکان پر گئے جہاں مرزا سلطان محمد صاحب ٹھہرے ہوئے تھے۔وہاں جا کر انہیں تبلیغ کی اور کہنے لگے جب تبلیغ کرنی ہے تو اپنے مکان پر بلا کر نہیں کرنی چاہئے بلکہ وہیں چلنا چاہئے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔چنانچہ باوجود بیماری کی سخت تکلیف کے وہ وہاں گئے اور انہیں تبلیغ کی۔پس اللہ تعالی کا یہ ایک عظیم الشان فضل ہوا ہے کہ ہمارے رستہ میں جو ایک مخریہ تھی اللہ تعالیٰ نے اسے دور کر دیا۔اور جس طرح تائی صاحبہ کو بیعت میں داخل کر کے اللہ تعالٰی نے یہ الہام پورا کیا اسی طرح مرز ا سلطان احمد صاحب کو بھی بیعت میں داخل کر کے اللہ تعالٰی نے اس مخزید کو دور کر دیا جو آپ کے بیعت میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے تھی۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے تقریباً تمام آدمی بیعت میں داخل ہو چکے ہیں۔صرف ایک آدمی ایسے ہیں جو ابھی بیعت میں شامل نہیں ہوئے اور وہ مرزا سلطان محمد صاحب ہیں۔ان کی وجہ سے مخالفین سلسلہ پر بہت اعتراض کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کچھ تعجب نہیں اگر اللہ تعالیٰ سلسلہ کے رستہ سے اس مخزیہ کو بھی