خطبات محمود (جلد 13) — Page 212
خطبات محمود ۲۱۲ سال لوگوں کے مونہوں سے جو مامورین کی حقیقی قدرو منزلت جانتے ہیں کبھی نہیں نکل سکتے۔غرض الهام الہی کا ادب اور وقار احمدیت کی حد تک ان کے دل میں نہ تھا۔اگر چہ وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے نہیں۔ایسی قلبی کیفیت کے باوجود اللہ تعالٰی نے انہیں ہدایت دی اور ایسے وقت میں دی کہ صاف طور پر وہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان معلوم ہوتا ہے۔دسمبر ۱۹۳۰ء میں انہوں نے بیعت کی اور چھ مہینوں کے بعد وہ فوت ہو گئے۔جس سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ ان کی بیعت الہی تصرف کے ماتحت ہوئی۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ اب یہ جلد ہی فوت ہو جانے والے ہیں اس لئے اگر انہوں نے بیعت نہ کی تو ایک مخزیہ رہ جائے گی۔پس خدا نے انہیں بیعت میں داخل کر کے اس تجزیہ کو بھی دور فرما دیا۔اس سے پہلے بعض دوست جب انہیں بیعت کے لئے کہتے تو وہ یہی جواب دیتے کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ سلسلہ سچا ہے مگر مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کروں۔قریباً سال بھر ان کی یہ حالت رہی اور اس سے پہلے ان کی یہ حالت تھی کہ وہ کہتے تھے یہ سلسلہ تو سچا ہے مگر ابھی میں نے فیصلہ کرنا ہے کہ لاہوری حق پر ہیں کہ قادیانی جماعت۔مجھے ان کے جب یہ خیالات معلوم ہوئے تو میں نے انہیں تحریک کی کہ اپنی احمدیت کا اعلان کر دیں کیونکہ اس سوال کا فیصلہ کئے بغیر بھی تو ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا سکتا ہے۔اس پر انہوں نے اعلان کر دیا کہ میں سلسلہ احمدیہ میں داخل تو ہوتا ہوں مگر ابھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ قادیانی جماعت حق پر ہے یا لاہوری۔اس اعلان کے ایک سال کے بعد انہیں شرح صدر ہو گیا اور انہیں یقین ہو گیا کہ جماعت قادیان ہی صداقت پر ہے اور یہی سلسلہ سچا ہے۔مگر شرم یہ آتی کہ میں اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر کسی طرح بیعت کروں۔آخر ایک دن ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مرزا سلطان احمد صاحب بیعت کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے میں تو چل نہیں سکتا آپ کو کسی دن فرصت ہو تو میری بیعت لے لیں۔اس دن میری طبیعت اچھی نہیں تھی اور میں بیمار تھا مگر میں نے کہا میں ابھی ان کے پاس چلتا ہوں۔ممکن ہے بعد میں دل بدل جائے اور پھر یہ وقت ہاتھ نہ آئے اس لئے میں اس وقت گیا اور انہوں نے میری بیعت کرلی۔بیعت کے بعد میں یہ دیکھتا رہا کہ ان کی بیعت خلوص دل سے ہے یا صرف ظاہری طور پر۔مگر میں نے دیکھا بیعت سے پہلے میرے نام جو ان کے رقعے آتے تھے ان میں ایک ایسا رنگ پایا جاتا تھا جس طرح کوئی علیحدہ شخص ہوتا ہے۔مگر بیعت کے بعد میرے نام ایک دن انہوں نے ایک رقعہ لکھا۔