خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 211

طبات محمود ۲۱۱ کا بیٹا ہدایت سے محروم رہا مگر یہ دوسرا نوح آیا تو اس کا بیٹا بھی اگر چہ ایک عرصہ تک ہدایت سے دور رہا مگر پھر خدا نے اسے ہدایت میں داخل کر کے ظاہر کر دیا کہ پہلے نوح کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا سلوک تھا اس سے بڑھ کر اس کا سلوک دو سرے نوح کے ساتھ ہے۔عام طور پر میں دیکھتا ہوں لوگوں کو پہلی حالت کا ذکر کرنے میں ایک قسم کا حجاب ہوتا ہے۔چنانچہ جب ہماری تائی صاحبہ بیعت میں داخل ہو ئیں تو ہماری جماعت میں سے کئی لوگ کہنے لگے تائی صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت نہیں کیا کرتی تھیں۔مگر چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی یہ واقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شان کو زیادہ ظاہر کرنے والے ہیں۔میں نے دیکھا ہے ہم چھوٹے ہوتے تھے ایک سیڑھی تھی جو ہمارے دونوں گھروں کے درمیان تھی۔ہم وہاں سے گزرتے تو ہماری تائی صاحبہ اکثر کہتیں۔جیسے کو ادیسے کو کو یعنی جس رنگ کا باپ ہے یہ بچے بھی اسی رنگ میں رنگین ہیں۔مجھے یہ کہتے ہوئے کچھ حجاب نہیں آتا۔کیونکہ ہم کہتے ہیں یہ قلب کی حالت ہو اور پھر ہدایت نصیب ہو تو یہ معجزہ ہو جا تا ہے۔اور پھر ان کا درجہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ باوجود اتنی مخالفت کے اللہ تعالیٰ نے آخر کوئی نیکی دیکھی ہی تھی جو انہیں ہدایت دیدئی۔یہی حال میں دیکھتا ہوں مرز اسلطان احمد صاحب کا تھا۔اس رنگ میں تو نہیں جس رنگ میں تائی صاحبہ کا تھا مگر ایک اور رنگ میں ان کا بھی ضرور ایسا ہی حال تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ مرزا سلطان احمد صاحب ہمیشہ یہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹ نہیں بولتے۔اپنا باپ ہونے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی الواقع ان کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی راستبازی گھر کر چکی تھی۔مگر یہ نہیں کہ وہ آپ کے الہامات کی ایسی عظمت اور شان سمجھتے ہوں جیسے ایک مامور کے الہامات کی سمجھنی چاہئے۔مجھے ان کا ایک فقرہ خوب یاد ہے۔شروع شروع میں جب میں نے ان سے ملنا شروع کیا تو ایک دن باتوں باتوں میں کہنے لگے۔مجھے یقین ہے ہمارے والد صاحب کو رسول کریم میں امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی بڑھ کر محبت تھی۔اپنے رنگ میں انہوں نے یہ فقرہ محبت میں ہی کہا ہو گا۔مگر مجھے بڑا ہی بُرا معلوم ہوا کیونکہ خدا کے مقابلہ میں کسی رسول سے زیادہ محبت ہو ہی کس طرح سکتی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ کہنے لگے اگر یہ سٹڈیشن کا قانون پہلے نکلتا تو ہمارے والد صاحب ضرور قید ہو جاتے کیونکہ انہوں نے رسول کریم مالی کی شان قائم رکھنے کے لئے کسی مصیبت کی بھی پرواہ نہیں کرنی تھی۔اس قسم کے الفاظ ممکن ہے محبت کی وجہ سے ان کے منہ سے نکلے ہوں مگر ایسے الفاظ ہم