خطبات محمود (جلد 13) — Page 162
خطبات محمود ۱۶۲ 18 سال ۱۹۳۱ قاضی محمد علی صاحب کیوں تعریف کے مستحق ہیں (فرموده ۲۹ مئی ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔پچھلے دنوں ہماری جماعت میں جو واقعہ ہوا ہے اس کے متعلق چونکہ مختلف دوستوں کے مختلف خیالات ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ ایسی بات کہہ دوں جو جماعت کے اخبار نویسوں مبلغوں اور دوسرے لوگوں کے لئے ہدایت کا کام دے سکے۔میری اس واقعہ سے مراد قاضی محمد علی صاحب مرحوم کا واقعہ ہے۔جماعت میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں کچھ لوگ تو اپنے جوش محبت اور وفور اخلاص کی وجہ سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ قاضی صاحب مرحوم کے واقعہ کو لوگوں کی نظروں کے سامنے تازہ اور زندہ رکھا جائے اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ بھی اپنے رنگ میں (اگر کوئی خاص بات ان میں سے کسی کے خلاف ثابت نہ ہو جائے) سلسلہ کی محبت اور تعلیم سے اخلاص کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہو چکا ہو چکا اب اس کے متعلق ہمیں خاموش ہو جانا چاہئے کیونکہ سختی اور ظلم کا مقابلہ بختی اور ظلم سے کرنا ہماری تعلیم کے خلاف ہے۔میں دیکھتا ہوں بعض جگہ اس اختلاف سے فتنہ کا خوف ہے اور بعض دوستوں میں اس اختلاف کے باعث لڑائی کا ڈر ہے۔چونکہ یہ اپنی نوعیت کا نرالا واقعہ ہے اور ہماری جماعت میں پہلے اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور چونکہ ہم اگر خاموش بھی رہنا چاہیں تو دشمن ایسے حالات میں ہمیں کب خاموش رہنے دیتے ہیں اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کروں۔سب سے پہلے میں جماعت کے دوستوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو اس واقعہ کو زندہ اور