خطبات محمود (جلد 13) — Page 132
۱۳۲ مسال ۱۹۳۱ء محمود صرف بارہ آدمی رہ گئے اور ایسے خطرے کی حالت پیدا ہو گئی کہ صحابہ نے سمجھا اس وقت ہماری ب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ ہم رسول کریم میم کو پیچھے ہٹالیں۔چنانچہ بعضوں نے آپ کی سواری کی باگوں کو تھام لیا اور آگے بڑھنے سے روکا اور چاہا کہ آپ میر پیچھے ہیں مگر آپ نے فرمایا چھوڑ دو نبی اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹایا کرتا آپ نے اپنی سواری آگے بڑھائی اور فرمایا انا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبُ۔صحابها اپنے میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں مگر خدا کا نبی اور رسول ہوں میں جھوٹا نہیں۔پھر آپ نے حضرت عباس کو فرمایا آواز دو اے انصار ! خدا اور اس کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔انہوں نے آواز دیا۔ایک انصاری کا بیان ہے کہ نو مسلم دو ہزار کے قریب تھے جو کہا کرتے تھے اب ہمیں خدمت بجالانے کا موقع ملنا چاہئے اور آگے ہو کر لڑنا چاہئے۔چونکہ وہ لوگ اسلام میں حدیث العہد تھے اور ایمان میں پختہ نہیں تھے اس لئے جب تیر بر سے تو وہ پیچھے کی طرف بھاگے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باقی لشکر بھی بھاگنے لگا اور ان کے گھوڑے بھی بدک کر میدان سے بھاگ نکلے۔گھوڑوں کو موڑتے تھے مگر وہ نہیں مڑتے تھے۔جس وقت حضرت عباس کی آواز انہوں نے سنی تو وہ کہتے ہیں ہمیں یوں معلوم ہو ا جس طرح ایک فرشتہ قیامت کے دن صور پھونک رہا ہے۔جتنے زور سے کوئی شخص اپنی سواری کو موڑ سکتا تھا اس نے موڑا اور جن سے نہ ہو سکا وہ اپنی سواریوں سے کود پڑے اور تلواروں سے ان کی گردنیں اڑا دیں۔اور تھوڑی ہی دیر میں وہ رسول کریم کے گرد جمع ہو گئے۔یہ وہ جنگ ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی ، سامان زیادہ تھا اور وہ خیال کرتے تھے آج ہم اپنے نفس کی طاقت سے غالب آجا ئیں گے۔مگر خدا نے پسند نہ کیا اور باوجود سامانوں کی کثرت کے تعداد کی زیادتی کے انہیں نیچا دکھایا۔پس خدا کی قائم کردہ جماعتوں کے پاس اگر سامان کم ہوں تو خدا اپنے فرشتے نازل فرماتا ہے اور انہیں دوسروں پر غلبہ عطا فرماتا ہے لیکن اگر انہیں اپنی کثرت پر گھمنڈ ہو جائے تو انہیں نیچا بھی دکھاتا ہے۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ بھی اس وقت ایک عظیم الشان جنگ کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ساری دنیا سے اس وقت ہماری جنگ ہے مگر اس میں ہمیں فتح ظاہری سامانوں کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ہماری فتح ہمارے ایمان پر ہے جتنا ہمارا ایمان قوی ہو گا اتنی ہی جلدی