خطبات محمود (جلد 12) — Page 80
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء کے کھانے کھانا سجے ہوئے اور عمدہ مکانوں میں رہنا ان میں سے کوئی چیز بھی نا جائز نہیں لیکن ان چیزوں کا اسلام کی ترقی کے راستہ میں روک ہو جانا نا جائز ہے۔شریعت یہ نہیں کہتی کہ بدصورت عورت تلاش کر کے اس سے شادی کرو لیکن یہ ضرور کہتی ہے کہ عورت تمہاری عبادت کے راستہ میں روک نہ ہو جائے۔اسی لئے جہاں شریعت نے عورتوں کا ذکر کیا ہے وہیں نماز کا ذکر کر دیا ہے اور فرمایا ہے ایسا نہ ہو تم نماز سے غافل ہو جاؤ۔اسی طرح لباس ہے یہ ہرگز منع نہیں کہ عمدہ لباس پہنو لیکن اس سے ضرور روکا ہے کہ اوقات کو اس طرح خرچ کیا جائے کہ دینی کام سے انسان غافل ہو جائے۔اسی طرح اعلیٰ کھانا کھانے سے نہیں روکا لیکن انہیں دین کے رستہ میں حائل ہونے دینا نا جائز بتایا ہے۔پس ہمیں اپنے تمام کاموں میں اس بات کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ جو چیز دین کے رستہ میں روک ہوا سے دور کر دیا جائے۔مسلمانوں میں یہ احساس نہیں۔ابھی اپنی جماعت کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ نئی ہے اور اسے ایسے مواقع نہیں ملے کہ اس قسم کی قربانی کا ثبوت پیش کر سکے لیکن عام مسلمانوں میں یہ مرض بہت ہے۔بڑے بڑے آدمی نمازوں میں بہت سست ہوتے ہیں۔نواب اور رؤسا کے لئے باجماعت نماز تو شاید ایسی ہو جیسے ایک عام مسلمان کے لئے سؤ رکھانا۔بلکہ یہاں تک کہ شعائر اسلام کی بھی انہیں پرواہ نہیں۔وہ اسلام کے لئے معمولی قربانی بھی نہیں کر سکتے۔ہمارے ایک احمدی دوست کو بطور ڈیپوٹیشن کے ایک مسلمان نواب کے دربار میں جانا پڑا۔انہوں نے وہاں جا کر السّلامُ عَلَيْكُم کہان۔نواب صاحب بہت بگڑے اور کہا یہ اتنا بد تہذیب انسان ہے کہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ شرفاء کی مجلس میں سلام کس طرح کہنا چاہئے جب وہ بہت ناراض ہوئے تو انہوں نے آخر جواب دیا کہ میں نے تو صرف وہی بات کہی ہے جو آپ کے دربار سے ایک بہت بڑے دربار یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار میں کہی جاتی تھی۔تو مسلمان رؤسا السّلامُ عَلَيْكُمْ کے بھی روادار نہیں اور اسے خلاف تہذیب سمجھتے ہیں۔جب تک جھک کر آداب عرض نہ کہا جائے یا اور دوسرے سلام جن کا اسلام سے تعلق نہیں نہ کئے جائیں ان کے نزدیک تہذیب اور شائستگی قائم نہیں رہ سکتی۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ مؤمن کی تہذیب اور شائستگی اس کا مذہب ہے جو اس کے خلاف ہے اس کی اسے پرواہ نہیں۔کون سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالی سے بڑھ کر بھی تہذیب و شائستگی کے قواعد کوئی بیان کر سکتا ہے۔تہذیب وہی ہے جو