خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 65

خطبات محمود ۶۵ سال ۱۹۲۹ء پانچ آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک وہ جو اندر جائے، دوسرا جو باہر دیکھتار ہے، تیسرا جسے مال سپرد کیا جائے، چوتھا وہ جس کے پاس مال رکھا جائے اور پانچواں سُنار جو زیوارات کو تو ڑ کر سونا بنائے۔آپ نے اس سے پوچھا جب اتنے ہاتھوں سے ہو کر مال گزرتا ہے تو اگر کوئی اس میں سے کھا جائے پھر کیا کیا جاتا ہے۔گو وہ شخص چور تھا لیکن فورا اس کے چہرہ پر غیرت کے آثار ظاہر ہو گئے اور اس نے کہا ایسے بد دیانت آدمی کو ہم سیدھا نہ کر دیں۔تو بد دیانتی چوری میں بھی شریفانہ نگاہ سے نہیں دیکھی جاتی اور بد عہدی بھی بد دیانتی ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں نے بھی ایک عہد کیا ہوا ہے اور عہد بھی کسی انسان سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے اور وہ یہ کہ ہم تمام دنیا میں اسلام اور اس کی تعلیم کو پھیلائیں گے۔یہ عہد کوئی معمولی عہد نہیں ہر کام کی حیثیت کے مطابق ہی اس کے لئے تیاری کی جاتی ہے۔معمولی کام کے لئے تیاری بھی معمولی اور بڑے کام کے لئے تیاری بھی بڑی ہوتی ہے۔اگر کسی معمولی چوری کی خبر آئے تو تھا نہ سے معمولی کانسٹیبل کو بھیج دیا جاتا ہے لیکن اگر ذرا بڑا واقعہ ہو تو سارجنٹ آتا ہے اس سے بڑا ہو تو تھانیدار جاتا ہے اگر ڈاکہ پڑے تو انسپکٹر جاتا ہے۔قتل کی واردات ہو جائے تو سپر نٹنڈنٹ بھی پہنچ جاتا ہے کسی بڑے بلوہ کی اطلاع پر انسپکٹر جنرل خود آتا ہے بغاوت کا خوف ہو تو فوج بھیجی جاتی ہے اور ملکوں کی لڑائیوں میں کئی فوجیں جمع کر کے بھیجی جاتی ہیں۔گویا ہر کام کی حیثیت کے مطابق ہی اس کے لئے تیاری کی جاتی ہے۔اگر خطرہ اہم ہو تو اس کے انسداد کیلئے تیاری بھی اہم ہوگی۔جس کام کو ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے اگر اس کے خطرات کو مدنظر رکھ کر ایک منٹ بھی سوچا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے کس قدر عظیم الشان تیاری کی ضرورت ہے۔ہماری اپنی کمزوری اور بے بضاعتی تو اس حد تک ہے کہ مخالفین علی الاعلان پبلک میں ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور اخباروں میں ہمارے خلاف لکھتے ہیں لیکن نہ ہم انہیں روک سکتے ہیں اور نہ ہی گورنمنٹ کچھ کرتی ہے۔بلکہ پچھلے گورنر نے تو میرے منہ پر کہا تھا ہم چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے احساسات کا کہاں تک خیال رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کب ایسا ہوا کہ کسی مذہبی پیشوا کی ہتک کی گئی جس پر گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی مگر اس نے کوئی نوٹس نہ لیا کہ آپ کو در تمان کے متعلق اشتہار شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔میں نے کہا ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو