خطبات محمود (جلد 12) — Page 59
خطبات محمود ۵۹ غریب تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کوئی امیر نہ تھے۔آپ کی جائیداد کی قیمت قادیان کے ترقی کرنے یا آپ کے الہامات کے باعث بڑھ گئی ورنہ اس کی قیمت خود آپ نے دس ہزار روپیہ لگائی ہے اور اتنی مالیت کی جائیداد سے کونسی بڑی آمد ہوسکتی ہے۔پھر حضرت ابراہیم اور حضرت نوح عليهما السّلام بھی بڑے آدمی نہ تھے۔اگر چہ انبیاء کو اللہ تعالی بعد میں بڑا بنا دیتا ہے اور تقریباً سب کو بعد میں بادشاہت دے دی لیکن یہ سب کچھ بعد میں فضلوں کے طور پر ہوا ابتداء میں تمام سلسوں کے بانی غریب ہی ہوئے ہیں امراء اور بادشاہ نہیں ہوئے۔درمیانی طبقہ کے لوگوں میں سے بھی بعض دفعہ ہو جاتے ہیں لیکن بادشاہ صرف چند ایک ہی ہوئے ہیں جیسے حضرت سلیمان یا داؤد عَلَيْهِمَا السّلام مگر یہ بھی ایسے نہیں ہیں کہ کسی سلسلہ کے بانی یا خاتم ہوں۔پھر دنیا کی اسی فیصدی آبادی غریب ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی دلجوئی رمضان کے ذریعہ کی اور بتایا کہ یہ مت سمجھو کہ فاقہ کش کو خدا تعالیٰ نہیں مل سکتا اگر ایسا ہوتا تو رمضان کے نتیجہ میں کیوں ملتا۔کیا عمدہ نسخہ ہے ان اسی فیصدی لوگوں کے لئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری عمر یونہی گئی۔انہیں بتایا تم اپنے فاقوں کو اگر خدا تعالیٰ کے لئے کر دو تو اس سے بڑے بڑے فیوض حاصل کر سکتے ہو۔باقی میں فی صدی آبادی میں سے بھی کچھ تو ایسے ہی ہوتے ہیں جو ذرا اچھی حیثیت رکھتے ہیں بڑے امراء صرف دو تین فیصدی ہی ہوتے ہیں۔مگر میں نے ان لوگوں کو بھی امراء میں شامل کر لیا ہے جو گاؤں اور دیہاتوں میں بڑے سمجھے جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بھی ملا کر امراء کی تعداد میں فیصدی ہوتی ہے۔ان لوگوں کو بھی روزہ کا یہی فائدہ بتا یا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ان کے لئے یہ تقویٰ کے حصول کا کس طرح ذریعہ ہو سکتا ہے؟ اس کی صورت یہ ہے کہ جب ایک انسان جس کے پاس کھانے پینے کے تمام سامان موجود ہیں۔مگر باوجود ان کے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے آپ کو فاقہ میں ڈالتا ہے اور خدا کو خوش کرنے کے لئے کچھ نہیں کھا تا اور جو حلال چیزیں خدا نے اسے دی نہیں انہیں بھی استعمال نہیں کرتا۔اس کے گھر میں گھی، گوشت، چاول وغیرہ کھانے کی تمام ضروریات مہیا ہیں مگر وہ نہیں کھاتا اور خدا کے لئے انہیں ترک کر دیتا ہے اس کے لئے اس میں سبق ہے کہ جب میں اپنی چیزوں کو بھی خدا کے لئے چھوڑتا ہوں تو خلاف حکم الہی ان چیزوں کی جو میری نہیں کیوں خواہش کروں اور یہ کہ میں نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق بسر کرنی ہے۔