خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 544

خطبات محمود ۵۴۴ ۶۷ سال ۱۹۳۰ء کامیابی کے تین گر فرموده ۲۶۔دسمبر ۱۹۳۰ء) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اسلام کی ہر ایک بات ہی دوسرے مذاہب سے نرالی ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق جو احکام اسلام نے دیئے ہیں وہ دیگر مذاہب سے اسے ممتاز کر کے دکھاتے ہیں۔یہی ہمارا اجتماع یعنی جمعہ کا دن ہے اسے ہی دیکھ لو۔جمعہ بھی دراصل جمع ہی سے نکلا ہے اور یہ درحقیقت علامت اور نشان ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو اس آخری زمانہ میں ایک دین پر جمع کرنا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس نماز کا خصوصیت کے ساتھ حکم ہے یعنی جس وقت جمعہ کے لئے آواز دی جائے فوراً دوڑ پڑیں اور ذکر کے لئے جمع ہو جائیں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ ایک علامت اور نشان تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اس کی عظمت تمہارے دلوں میں خدا تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے تا اس کام کے پورا کرنے کے لئے جب آواز بلند ہو کسی وسوسه یا دیر یا شستی یا وقت ضائع کئے بغیر دوڑ پڑو۔پس جمعہ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اسلامی تبلیغ کا ایک نظارہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کن سامانوں سے دنیا کو جمع کیا جا سکتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو جمعہ تین چیزوں سے بنتا ہے یعنی تین چیزیں جمعہ میں ہوتی ہیں۔پہلی لوگوں کا اجتماع یعنی لوگ اکٹھے ہوں تمام شہر بلکہ ملحقہ دیہات کے مسلمان بھی ایک مسجد میں جمع ہو جا ئیں گویا پہلا ذریعہ جو ترقی کا بتایا ہے وہ یہ ہے کہ پراگندگی اختیار نہ کریں بلکہ سب ایک جگہ جمع ہوں۔جس طرح قیامت کے دن جب طور پھونکا جائے گا تو سب جمع ہو جائیں گے اسی طرح جمعہ بھی روحانی قیامت کی علامت ہے اور اس