خطبات محمود (جلد 12) — Page 539
۵۳۹ ۶۶ خطبات محمود جلسہ سالانہ کے انتظام کے متعلق چند ہدایات (فرموده ۱۹ - دسمبر ۱۹۳۰ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میرا منشاء جس کام کے لئے لاہور جانے کا تھا جلسہ کے ایام کے قرب کی وجہ سے میرا ارادہ تھا کہ کل صبح جا کر کل ہی شام کو واپس آجاؤں گا لیکن ایک اور ایسا ضروری کام پیش آ گیا ہے جس کی وجہ سے آج ہی چار بجے مجھے لاہور پہنچنا ضروری ہے اس وجہ سے میں نے دوستوں کو اعلان کے ذریعہ اطلاع دی تھی کہ نماز جمعہ کے لئے عام وقت سے پہلے آجائیں تا جمعہ پڑھانے کے بعد سو ایا ڈیڑھ بجے تک میں روانہ ہو سکوں۔نماز جمعہ کے متعلق محققین کی رائے ہے کہ اس کا کوئی وقت نہیں انہوں نے جمعہ کو ظہر سے علیحدہ کیا ہے اس لئے ان کے نزدیک اگر جمعہ زوال سے پہلے ادا کر لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن عام لوگوں کے اذہان میں یہ بات کچھ اس طرح داخل ہو گئی ہے کہ اگر کوئی زوال سے پہلے جمعہ پڑھ لے تو شور مچ جائے کہ اس نے کیا کر دیا۔مولوی غلام حسن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے اور مخلص خادم لاہور میں تھے اگر چہ ان کی عمر ستر سال کے قریب تھی مگر جوش ان کے اندر جوانوں سے بھی زیادہ تھا اُن کی یہ حالت تھی کہ اگر ان سے کوئی کہہ دے کہ میں قرآن شریف یا حدیث یا عربی پڑھنا چاہتا ہوں تو خواہ اُس کا مکان چار میل دور ہو ہلا ایک پیسہ معاوضہ لئے بلا ناغہ اس کے مکان پر پہنچ جاتے تھے۔وہ دفتروں کے ملازمین سے کہا کرتے تھے اگر جمعہ کی نماز کے لئے تمہیں چھٹی نہیں ملتی تو میرے پاس آ جایا کرو میں 9 بجے