خطبات محمود (جلد 12) — Page 516
خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۰ء کپاس وغیرہ فروخت کر کے ہی دے سکتے ہیں اس لئے ان کی آمد کی توقع دسمبر کے آخر بلکہ جنوری کے شروع میں کی جاسکتی ہے۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ ابھی تک بعض شہری جماعتوں کی طرف بھی بقائے ہیں۔مجھے اخبار سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان کی جماعت پوری رقم داخل کر چکی ہے مگر اس کے باوجود ابھی اور بھی کوشش ہو رہی ہے۔مدرسہ احمدیہ کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے ابھی مجھے ایک لفافہ دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ ستر روپے ہیں جولڑکوں نے اپنا دودھ وغیرہ بند کر کے جلسے کے لئے دیئے ہیں گویا مقررہ رقم پوری ہو جانے کے باوجود بھی اور جمع کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔مگر باہر کی بعض جماعتوں نے ابھی تک مقررہ رقم بھی داخل نہیں کی اس لئے ان کی اطلاع کے لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ چونکہ ان کی وجہ سے سلسلہ کے کام میں حرج ہوا ہے اس لئے جن جماعتوں نے غفلت سے کام لیا ہے وہ دسمبر تک مقررہ رقم سے پانچ فیصدی زائد داخل کریں اور اگر یہ پورا نہ ہوا تو جنوری فروری میں اس سے بھی زائد ان کے ذمہ لگایا جائے گا۔اس وقت مالی لحاظ سے جو مشکلات ہیں وہ ایک جگہ کے لئے ہی مخصوص نہیں بلکہ سب کی حالت قریباً یکساں ہے۔ہر جماعت میں کچھ لوگ غریب ہیں اور کچھ آسودہ۔یہ نہیں کہ بعض مقامات پر سب غریب ہی ہوں۔اور بعض پر سارے امیر بلکہ سب کی یہی حالت ہے کہ کچھ لوگ امیر ہیں اور کچھ غریب۔پس جب ان حالات کے باوجود ایک جماعت اپنی مقررہ رقم مقررہ وقت کے اندر داخل کر دیتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسری نہ کر سکے اس لئے جن جماعتوں نے غفلت سے کام لیا ہے وہ دسمبر تک پانچ فیصدی زائد داخل کریں۔یہ چٹی کے طور پر نہیں بلکہ غفلت کے عذاب سے بچنے کے لئے بطور کفارہ ہے تا اللہ تعالی انہیں اس غفلت کے بد نتائج سے محفوظ رکھے۔دیکھو نماز میں اگر سہو ہو جائے تو اس کے لئے زائد مسجد ہ کیا جاتا ہے گویا ہماری شریعت نے یہ طریق رکھا ہے کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس کے ازالہ کے لئے کچھ زائد کیا جائے۔نہیں اس پانچ فیصدی کو بھی پٹی نہیں بلکہ سجدہ سہو کے طور پر سمجھو اور اس کے ذریعہ اپنی غفلت کے ازالہ کی کوشش کرو۔جب تک انسان اپنی غلطی پر پشیمان نہ ہو اُس وقت تک اصلاح بھی نہیں ہو سکتی اور جب بندہ اپنی غلطی پر پشیمان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح دھو ڈالتا ہے جس طرح تختی پر سے ایک الب علم سیا ہی کو دھوڈالتا ہے۔اگر تختی پر اچھی گا چینی لگی ہوئی ہو تو اچھی طرح دھونے کے بعد سختی بالکل نئی نکل آتی ہے اور پہلی تحریر کا کوئی نقش اس پر نہیں رہتا۔غلطی پر پشیمان ہونے سے خدا تعالیٰ