خطبات محمود (جلد 12) — Page 422
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء برہمن مر گیا تو اسے بھی اس گناہ کے ازالہ کے لئے بہت بڑی عبادت کرنی پڑی تھی۔تو گائے اور برہمن کی ان میں اس قدر عزت ہے کہ خدا کو بھی انہیں تکلیف پہنچانے کی وجہ سے سزا ملتی ہے۔پرانے زمانے میں براہمن ٹاٹ پہن کر راجہ کے محل یا مندر کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو ہم مر جائیں گے اور چونکہ سمجھا جاتا تھا کہ براہمن کے مرنے سے بہت بڑا پاپ ہوتا ہے اس لئے ان کی خواہش پوری کر دی جاتی تھی لیکن اس زمانہ میں یہ بات نہایت نا معقول ہے۔اگر کوئی انگریز کانگریس کا کام بند کرانے کے لئے فاقہ کرنا شروع کر دے یا لنکا شائر کے پانچ سات سوداگران پارچہ کہہ دیں اگر گاندھی جی نے لنکا شائر کے کپڑے کے استعمال کے لئے لوگوں کو ہدایت نہ کی اور اس کے لئے اعلانات شائع نہ کئے تو ہم مر جائیں گے تو پھر کیا ہو گا۔پس یہ ایک ایسی لغو اور خلاف عقل بات ہے کہ اسے اگر وسیع کر کے دیکھا جائے تو دنیا میں آفت آ جائے۔اس کے علاوہ یہ جبر ہے کہتے ہیں جس شخص نے دیال سنگھ کالج بنوایا وہ مسلمان ہونے کے لئے بالکل تیار تھے وہ ایک مولوی صاحب کے اثر کے نیچے تھے۔کسی نے ان سے کہا مولوی صاحب سے کہیں اگر آپ آج شراب پی لیں تو میں کل مسلمان ہو جاؤں گا۔اس نے مولوی صاحب سے اسی طرح کہا اور ساتھ کچھ نقد روپیہ بھی دے دیا۔مولوی بیچارے نے لالچ میں آکر شراب پی لی اس پر وہ اسلام سے بدظن ہو گیا اور تمام جائیداد بر ہمو سماج کو دے دی۔اگر مولوی اسے کہتا کہ اگر تم مسلمان ہونا چاہتے ہو تو ہو جاؤ میں شرار نہیں پی سکتا تو وہ اغلبا مسلمان ہو جاتا۔مگر وہ غریب دھوکا میں آگیا تو اس قسم کا دباؤ ڈالنا سراسر نا جائز اور فضول ہے کہ جیسے ہم کہتے ہیں کرو وگرنہ ہم یہاں تمہارے دروازے کے سامنے لیٹے ہیں اور فاقہ کر کے مر جائیں گے یہ جبر کی ایک راہ ہے اور یہ طریق ملک کے لئے کبھی مفید نہیں ہو سکتا۔اور یہ روح اگر ملک کے اندر قائم ہو جائے تو ایسی خرابی پیدا ہو گی جس کا روکنا ناممکن ہو جائے گا۔لوگ ذرا ذراسی بات پر یہ طریق اختیار کرنے لگ جائیں گے کہ یا تو ہمیں پامال کرو اور یا ہمارے حسب منشاء کام کرو۔اور اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ کسی سے کہا جائے یا تو اندر بیٹھ کر مر جاؤ اور یا ظالم بنو۔اس طرح تو دنیا کا ایک بھی کام جاری نہیں رہ سکتا اس صورت میں یہ ملک آدمیوں کا ملک نہیں بلکہ سانپوں کا ملک دکھائی دے گا۔جس طرح بعض پہاڑی علاقوں میں جگہ بہ جگہ سانپ پڑے ہوتے ہیں اسی طرح یہاں ہوگا بازار سنسان ہوں گے کا روبار