خطبات محمود (جلد 12) — Page 423
خطبات محمود بند ہو گا لوگ خاموش اور جگہ بہ جگہ سڑکوں پر دروازوں کے سامنے دکانوں کے آگے لیٹے ہوں گے اور جو جس سے ناراض ہو گا اس کی دکان یا مکان یا آفس کے سامنے لیٹا ہوا نظر آئے گا۔اور یہ ایک ایسا بھیا نک نظارہ ہو گا جسے کوئی پسند نہیں کر سکتا۔کانگریسیوں نے اس کی کم سے کم حد بندی بھی تو کوئی نہیں کی کہ کہاں لیٹنا جائز ہے اور کہاں نہیں۔ہر چیز کی ایک حد بندی ہوتی ہے مثلا کسی کو مارنے یا سزا دینے کی حد بندی یہ ہے کہ حکومت وقت کسی مجسٹریٹ کی عدالت میں با قاعدہ مقدمہ چلا کر اسے سزا دلا سکتی ہے یا سکول کا ہیڈ ماسٹر طالب علم کو ایک حد کے اندر رہتے ہوئے سزا دے سکتا ہے۔اسی طرح اس کی بھی تو کوئی حد بندی ہونی چاہئے کہ کہاں لیٹنا جائز ہے اور کہاں نا جائز ہے۔مگر کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے لیٹنے میں کوئی حد بندی نہیں جس سے پتہ لگ سکے کہ کون راستی پر ہے لیٹنے والا یا جس کے دروازے کے آگے لیٹا ہے۔ابھی ملک میں پوری پوری بیداری پیدا نہیں ہوئی اور لوگوں نے اس تحریک کو اچھی طرح سمجھا نہیں وگر نہ تمام ملک میں آفت بچ جائے۔مثلاً جن اخباروں کو کانگریس بند کرا رہی ہے ان کے ایڈیٹر کاتب، کلرک اور کارکنانِ مطابع اگر کانگریس کے دفتر کے آگے جا کر لیٹ جائیں اور کہیں کانگریس کی جائداد ہمارے حوالے کر دو وگرنہ ہم یہیں مر جائیں گے تو کیا ہی عمدہ لطیفہ ہو غرض یہ پالیسی نہایت غلط اور ملک کے لئے مضر ہے۔باقی رہی کھنڈر کی تحریک تو دوستوں نے اس کے متعلق بھی دریافت کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔میں نے کئی بار بیان کیا ہے کہ ملک کی تقویت کے لئے اگر کوئی کام کیا جائے تو بہت اچھا ہے لیکن کھدر کی تحریک ملک کو نقصان پہنچانے والی ہے۔چرخہ پر وقت بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے کیونکہ ہاتھ کی نسبت مشینوں سے کام بہت جلد ہو جاتا ہے اور وقت ضائع کرنا گویا دولت کو ضائع کرنا ہے۔کھیتوں کو پانی نہروں سے بھی دیا جاتا ہے اور کنوؤں سے بھی۔اب اگر کوئی شخص ان ذرائع کے بجائے یہ کہے کہ میں گھڑوں میں پانی بھر بھر کر لاؤں گا اور فصل کو سیراب کروں گا تو یہ اس کی نادانی ہوگی اس سے کوئی ترقی نہیں بلکہ ملک کی دولت برباد ہوگی اور کھڈ رکا ہاتھ سے بکنا بھی ایسا ہی ہے۔جب تک آدھا ملک اس کام میں نہ لگ جائے ملک کی ضرورت کے لئے کپڑا مہیا نہیں ہوسکتا۔یا کم از کم تیسرا چوتھا حصہ تو ضرور ہونا چاہئے تب کہیں جا کر ملک کو لباس کے لئے کھڈ رمہیا ہوسکتا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم سات آٹھ کروڑ ہندوستانی اس کام میں لگ