خطبات محمود (جلد 12) — Page 410
خطبات محمود ۱۰ سال ۱۹۳۰ء۔ہے۔اور جن سامانوں اور ذرائع کو وہ سمجھتا ہے کہ ملکی ترقی کا موجب ہیں ان کے قبول کرنے کے لئے وہ آپ ہی آپ تیار ہو جاتا ہے حتی کہ بعض اوقات اس کے مخالف سامان بہت کثرت سے جمع کر دیے جاتے ہیں مگر پھر بھی دل ان کے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ایک زمانہ فرانس پر ایسا گزرا ہے جب بغاوت اور خونریزی انتہاء تک پہنچ گئی تھی۔آخر اللہ تعالی نے فرانس کو نپولین کے ہاتھ پر منظم کیا اور اس کے ذریعہ اس ملک کو عظمت اور شوکت ملی اور اُس زمانہ سے اس وقت تک اس کا ذکر عزت و احترام سے کیا جاتا ہے۔پہلے یورپ کے لوگوں کو اس کی ترقی کھٹکتی تھی اور وہ پسند نہیں کرتے تھے کہ نپولین کے ذریعہ اسے شان وشوکت حاصل ہو اس لئے بہت سے ممالک نے مل کر اسے شکست دی اور ایک جزیرہ میں قید کر دیا کچھ عرصہ کے بعد وہ کوشش اور تدبیر سے وہاں سے بھاگ نکلا اور پھر فرانس پہنچا۔اس کی قید اور بندش کے زمانہ میں فرانس پر وہی پرانا خاندان حکومت کرنے لگا تھا جو بغاوت سے پہلے کرتا تھا۔جس وقت نپولین کے دوبارہ پہنچنے کی خبر اسے پہنچی تو اس نے جرنیلوں اور سپاہیوں کو جمع کر کے پادریوں کے ذریعہ بائبل پر ہاتھ رکھ رکھ کر قسمیں لیں کہ وہ شاہی خاندان کے وفادار رہیں گے اور غداری نہیں کریں گے۔انہوں نے قسمیں کھائیں اور صدق دل سے کھائیں مگر ان کے دل جانتے تھے کہ ان کے ملک کی ترقی نپولین سے وابستہ ہے اور وہ اچھی طرح محسوس کر رہے تھے کہ اگر فرانس با عزت زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکتا ہے تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اس کی عنان نپولین کے ہاتھ میں ہو۔انہوں نے قسمیں کھائیں اور اس ارادہ سے میدان میں بھی آگئے کہ نپولین کو پکڑ کر لے آئیں گے۔وہ خیال کرتے تھے کہ وہ بادشاہ کے وفادار ہیں لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ ملک کے وفادار تھے۔اور ان کی قسموں کے نیچے ایک اور عہد چھپا ہوا تھا اور وہ یہ کہ ملک سے وفاداری کرنی چاہئے مگر قسمیں کھانے کے وقت ان کا وہ عہد بادشاہ کی خاطر پیدا کردہ شورش کے نیچے دب گیا۔نپولین جب آیا تو اس کے ساتھ صرف چند زمیندار لوگ تھے اور ان میں سے بھی اکثر کے پاس لاٹھیاں درانتیاں اور کلہاڑیاں وغیرہ تھیں صرف چند ایک ایسے تھے جن کے پاس پرانی وضع کی بندوقیں تھیں۔جب وہ ایک درے پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا شاہی فوج راستہ رو کے پڑی ہے۔نپولین نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ آگے بڑھیں جب وہ آگے جانے لگے تو شاہی جرنیل نے انہیں کہا راستہ تنگ ہے اس میں تم میں سے جو بھی گزرنے کی کوشش کرے گا ہم اُسے مار ڈالیں