خطبات محمود (جلد 12) — Page 411
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء گے اور یوں بھی تم ہمارے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے تمہارا لڑنا بھی فضول ہے بہتر ہے کہ واپس چلے جاؤ۔انہوں نے جا کر نپولین سے کہا اس نے جواب دیا تمہیں نپولین کا حکم ہے کہ آگے بڑھو۔انہوں نے پھر کوشش کی مگر کچھ نہ بنا اور انہوں نے پھر آ کر اسے کہا اس پر نپولین خود گیا اور سپاہیوں کو مخاطب کر کے کہا۔میرے آدمیوں کو گزرنے سے تم کیوں روکتے ہو۔انہوں نے جواب دیا تم یہ مت خیال کرو کہ ہم پرانے تعلقات کی بناء پر تمہارا لحاظ کریں گے بلکہ جو بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا اسے گولی سے اُڑا دیا جائے گا۔اس پر نپولین نے اپنا سینہ نگا کر دیا اور کہا کہ جو تم میں سے اپنے بادشاہ کو گولی مارنا چاہتا ہے وہ مارے۔اس ایک فقرہ سے ان کا خفیہ جذ بہ بیدار ہو گیا اور انہوں نے گیند کی طرح اپنی بندوقیں او پر اچھال دیں اور بادشاہ زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔غرض وہ تمام قسمیں اور معاہدات جو انہوں نے پیرس سے روانہ ہوتے وقت کئے تھے انہیں بھول گئے۔پس ملکی و فاداری ایک ایسی چیز ہے جو انسانی قلب میں مخفی ہوتی ہے اور بعض اوقات انسان اس کے خیال سے بعض ایسی باتوں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے جو اس سے کم اہم نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات اس سے زیادہ ضروری ہوتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کی بعثت پر عربوں نے بھی پہلے یہی سوال اٹھایا کہ اس نے ہمارے ملکی نظام کو تباہ کر دیا ہے بھائی کو بھائی سے اور باپ کو بیٹے سے جدا کر کے ہماری سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔غیر احمدیوں کو دیکھ لو ان میں سے بھی تعلیم یافتہ طبقہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام پر یہی اعتراض نہایت غصہ کی حالت میں کرتا ہے کہ آپ نے تفرقہ پیدا کر کے ہماری طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔تو قومی اور وطنی محبت ایک ایسی چیز ہے کہ بسا اوقات وہ اپنے سے زیادہ اہم جذبات کو بھی مغلوب کر لیتی ہے اور اس وقت انسان یہ نہیں دیکھ سکتا کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ مجنون ہو جاتا ہے۔پس بالکل ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے نو جوانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہو کہ وطنی خدمت کے موقع پر ہم دوسروں سے کیوں پیچھے رہیں خصوصاً جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ بہادر اور جری بنو ڈرو نہیں اور جبکہ ہمارے نوجوان قربانی کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں ایسے حالات میں ان کو صحیح راہ پر لگانا اُن لوگوں کا فرض ہے جن کے سپر د قوم کی اصلاح اور راہنمائی کا کام ہے۔اور ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایسے امور ان کے سامنے لائیں جن کی وجہ سے