خطبات محمود (جلد 12) — Page 401
خطبات محمود ۴۰۱ سال ۱۹۳۰ء سے کہہ دیتا ہے کہ اصل چیز عیسائیت کا مغز ہے اور تم اعتراض الفاظ پر کرتے ہو جو اس وقت اپنی اصل صورت میں نہیں ہیں یا تمہارا حملہ تفصیلات پر ہے اور انہیں ہم محفوظ نہیں سمجھتے تو ان کے لئے بہت ہی آسانی ہے۔بلکہ ان کی تو یہ حالت ہے کہ روس کا ایک شخص ٹالسٹائے جو مذ ہبا عیسائی اور مذہب کے متعلق نئے خیالات کا بانی قرار دیا گیا ہے اسے مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض کتب ارسال کیں جنہیں پڑھنے کے بعد اس نے مفتی صاحب کو لکھا کہ اور باتیں تو معقول ہیں لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ حضرت مسیح کی ولادت بے باپ پر اس قدر زور کیوں دیتے ہیں۔اگر مریم نے غلطی کی تو اس میں یسوع مسیح کا کیا قصور؟ یعنی اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ مسیح کی پیدائش نَعُوذُ بِاللهِ نا جائز تھی تو یہ تصور مریم کا ہے مسیح پر اس کی وجہ سے کوئی الزام نہیں آتا۔تو اپنے اپنے مذہب کو زمانہ کے رنگ میں ڈھالنے کے لئے عیسائیوں، یہودیوں ہندوؤں وغیرہ مذاہب کو بہت سہولتیں ہیں۔ہندو مذہب چند ایک دعاؤں اور منتروں کا مجموعہ ہے۔باقی تفصیلات میں سے جس پر تم اعتراض کرو کہہ دیں گے چلو یہ نہ سہی۔ان مذاہب کی مثال تو ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کسی جگہ ایک پٹھان رہتا تھا جو بازار میں اکثر کر اور مونچھوں پر تا ؤ دے کر چلا کرتا اور اس کا دعویٰ تھا کہ چونکہ میرے جیسا کوئی اور یہاں بہادر نہیں اس لئے میں یہاں کسی اور کو کام نہیں کرنے دوں گا۔ایک شخص پر اس کا اس طرح اکثر کر چلنا بہت گراں گزرا کرتا تھا اور وہ دل ہی دل میں بہت تا ؤ کھایا کرتا تھا کہ یہ کیوں لوگوں پر اس طرح حکومت کرتا ہے۔ایک دن وہ خود بھی اسی طرح مونچھوں کو تا ؤ دے کر بازار میں آ گیا کسی نے جا کر پٹھان سے کہہ دیا کہ ایک اور آدمی بھی آج اس طرح بازار میں آیا ہے۔پٹھان فورا اُٹھ کر اس کے پاس گیا اور کہا تیرا کیا حق ہے کہ اس طرح مونچھوں کو تا ؤ دے۔اس نے کہا تیرا کیا حق ہے۔پٹھان نے کہا میرا یہ حق ہے کہ میرے جیسا کوئی بہادر نہیں۔اس نے کہا میرے جیسا بھی کوئی بہادر نہیں ہے۔پٹھان نے کہا آؤ تلوار سے فیصلہ کر لیں کون بہادر ہے اور تلوار کھینچ لی۔اس پر وہ شخص کہنے لگا اس طرح ٹھیک نہیں کہ آدمی خود مر جائے اور بعد میں بیوی بچے تباہ اور خستہ حال پھرتے رہیں پہلے تم بھی اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دو اور میں بھی کر دیتا ہوں اور پھر آ کر لڑیں گے۔پٹھان نے کہا بہت اچھا چنانچہ دوڑا گیا اور دم بھر میں گھر کا صفایا کر کے آ موجود ہو ا۔اور اس شخص سے کہا آداب لڑیں لیکن اس نے مونچھیں نیچی کر لیں اور کہا اب تو میری صلاح بدل گئی