خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 35

خطبات محمود ۳۵ سال ۱۹۲۹ء سے بہت ترقی کر سکتے ہیں۔دوسروں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ہم پر بوجھ ہی پڑتا ہے فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ واقعہ میں مسلمانوں میں اتحاد کے خواہاں ہیں اور تفرقہ کو بُرا سمجھتے اور نقصان رساں یقین کرتے ہیں میرے اس اعلان کے بعد اپنے رویہ سے ہمیں اس بات کا موقع نہ دیں گے کہ ہم ان کے متعلق کہیں انہوں نے ہمارے عقائد یا ہمارے بزرگوں کی تحقیر کی۔میں ذاتی طور پر انقلاب کے ایڈیٹر صاحب سے کوئی زیادہ واقف نہیں ہوں وہ تین چار بار مجھ سے ملے ہیں میں نے انہیں تعلیم یافتہ اور مسلمانوں کے لئے دردمند دل رکھنے والا پایا۔شائد یہ فقرہ ان کا لکھا ہوا نہ ہو بلکہ کسی اور نے لکھ دیا ہو۔اب بھی ان کے متعلق میرا یہی خیال ہے کہ وہ دردمند دل رکھتے اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر باوجود اس کے میں یہ اعلان کئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ یہ بے غیرتی ہوگی اگر ہم اپنے عقائد اور اپنے پیشوا کی تحقیر اور تذلیل کو برداشت کریں اس کے لئے ہم کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہیں۔اگر میرا یہ ظن صحیح ہے کہ انقلاب میں وہ فقرہ ایڈیٹر صاحب کا لکھا ہوا نہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو شائع کر دیں گے میں ان سے ہرگز یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ احمدیت کے خلاف نہ لکھیں وہ لکھیں اور خوشی سے لکھیں لیکن مضمون کے رنگ میں اور کسی بات کی تحقیق کے لئے نہ کہ تحقیر اور تذلیل کریں اور اگر وہ فقرہ انہوں نے ہی لکھا ہے مگر بغیر تحقیر اور تذلیل کے خیال کے لکھا گیا ہے تو پھر بھی میں بر انہیں مناتا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ آئندہ احتیاط سے کام لیں۔لیکن اگر انہوں نے جان بوجھ کر یہ لکھا ہے اور تضحیک کے لئے لکھا ہے اور دوسرے لوگوں کا بھی یہی رویہ ہوا تو پھر ہم ان سے کسی بات میں اتحاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ہماری غیرت قطعا یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ ہم اس انسان کی تحقیر دیکھیں جسے ہم خدا تعالیٰ کا مامور اور مرسل یقین کرتے ہیں اور پھر تحقیر کرنے والوں سے مل کر کوئی کام کریں۔انقلاب ۳۱ جنوری ۱۹۲۹ء اخبار سیاست ۳۱ جنوری ۱۹۲۹ء الفضل ۸ فروری ۱۹۲۹ء)