خطبات محمود (جلد 12) — Page 277
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء حاصل ہوتی رہے کیونکہ اس علم سے واسطہ اور رابطہ بڑھتا ہے جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔پھر رمضان کا یہ بھی فائدہ ہے کہ جن کو راتوں کو جاگنا پڑتا ہے ان کی حالت کا علم ہو جاتا ہے۔اسی طرح یہ بھی مشق ہوتی ہے کہ حلال چیزوں کو خدا کی خاطر ترک کر دیا جائے اور جب حلال چھوڑ سکتا ہے تو پھر حرام کو چھوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔غرض اس سے کئی قسم کے سبق حاصل ہوتے ہیں لیکن فائدہ وہی اُٹھا سکتا ہے جو استعمال کرے۔جو استعمال نہ کرے اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔خالی رمضان میں فائدہ نہیں بلکہ رمضان کی حالت پیدا کرنا فائدہ کا موجب ہے۔جس طرح کو نین کو استعمال کرنے سے ہی بخار کو آرام ہو سکتا ہے جو اسے استعمال نہیں کرتا اس کے اردگرد کے گھروں میں خواہ کتنی استعمال ہوتی ہو اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔پس خدا تعالیٰ جن کو توفیق دے انہیں ضرور روزے رکھنے چاہئیں۔ہماری جماعت کے تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہئے کہ تعلیم یافتوں کیلئے نمونہ بنیں اور عوام کو عوام کیلئے نمونہ بننا چاہئے۔پھر عورتیں روزہ کے معاملہ میں بلا وجہ تنگی پیدا کرتی ہیں اس لئے انہیں یہ نمونہ دکھانا چاہئے کہ جہاں روزہ جائز نہیں وہاں اعتراض سے ڈر کر یا رسم ورواج کی پابندی کی وجہ سے روزہ نہ رکھیں۔غرضیکہ جو کمی کرنے والے ہیں ان کیلئے روزہ رکھ کر اور جوسختی کرنے والے ہیں ان کیلئے اس حالت میں جس کی شریعت نے تشریح کر دی ہے روزہ چھوڑ کر نمونہ بنا چاہئے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رستہ پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین (الفضل ۷۔فروری ۱۹۳۰ء) L البقرة: ۱۸۷ ترمذی ابواب الاطعمة باب ان المؤمن يا كل في معى واحد