خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 270

خطبات محمود ٢٧٠ سال ۱۹۳۰ء نے اول سہ ماہی رسالہ جاری کیا۔ہم آپ ہی اس کے چپڑاسی' آپ ہی کلرک اور آپ ہی ایڈیٹر تھے۔تین ماہ میں اکیس روپیہ چندہ جمع ہو جاتا تھا اور ہم رسالہ شائع کر دیتے۔تو کام کے لئے جب ارادہ کر لیا جائے تو چل ہی جاتا ہے۔اُس وقت بے شک مدرس ہماری حوصلہ افزائی کر دیا کرتے تھے لیکن ایک دفعہ مجھے بہت تلخ تجربہ ہوا وہ صاحب اس وقت یہاں بیٹھے ہیں انہوں نے ایک موقع پر پڑھنے کے لئے مجھے مضمون لکھ کر دے دیا تھا۔میں نے علمی کاموں میں ساری عمر اتنی ذلت محسوس نہ کی جتنی اس موقع پر کی۔حضرت خلیفہ اول بھی اس موقع پر بیٹھے ہوئے تھے جب وہ کسی فقرہ پر واہ میاں واہ کہیں تو مجھے یوں معلوم ہو جیسے میرے منہ پر تھپڑ مارا گیا ہے۔اس کے بعد میں نے عہد کیا کہ کسی کا لکھا ہوا مضمون نہیں لوں گا پھر جو کچھ خود آ تا لکھتا۔مجھے خوب یاد ہے اس مضمون کے وقت مجھے بہت پسینہ آ گیا تھا۔مجلس میں پہلی بار پڑھنے کی وجہ سے بھی آیا ہو گا مگر زیادہ تر اس خیال سے کہ کسی کا لکھا ہوا مضمون پڑھ رہا ہوں۔تو استاد بھی ہمارے کاموں میں حصہ لیتے تھے مگر زیادہ تر ہم خود ہی کرتے تھے۔چوہدری فتح محمد صاحب، عبد الرحیم صاحب مالیر کوٹلی، پیر مظہر قیوم صاحب چوہدری ضیاء الدین صاحب یہ تینوں فوت ہو گئے ہیں۔شیخ تیمور صاحب ایم۔اے جو آج کل پشاور کالج کے وائس پرنسپل ہیں اب ان کا مبائعین سے تعلق نہیں وہ میرے گہرے دوست اور پیارے تھے اور اب بھی ہیں، ایک کوئی اور صاحب تھے۔ایک سال کے اندر اندر اس کے اتنے خریدار ہو گئے کہ اسے ماہوار کر دیا گیا۔اس طالب علم چاہیں تو کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ دوسروں پر تو کل کرنا چھوڑ دیں اور اپنی ذات پر تو کل کریں۔الشورى: ۴۱ کے مسلم كتاب الطهارة باب خصال الفطرة الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۰ء)