خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 269

خطبات محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۰ء وقت تلاوت کرنا تو بہانہ معلوم ہوتا ہے۔اگر کوئی طالب علم سٹڈی (STUDY) کے وقت مصلی لیکر بیٹھ جائے اور کہے میں ذکر الہی کر رہا ہوں تو اُستاد کا فرض ہے کہ اسے روکے۔ایسے استاد کو میں بے دین نہ کہوں گا بلکہ فرض شناس کہوں گا کیونکہ وہ بے موقع کام سے روکتا ہے اور بے موقع اچھے سے اچھا کام بھی بُرا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ہاں اگر کوئی استادسٹڈی کے وقت قرآن کا سبق یاد کرنے کے لئے جتنے وقت کی ضرورت ہو اس سے روکتا ہے تو یہ شکایت معقول ہو سکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ طالب علم خود دینی کاموں کی طرف توجہ کریں گے۔صیغہ جات کو بھی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔حیرانی کی بات ہے کہ مقامی صیغہ موجود ہومگر وہ مقامی نقائص نہ دیکھ سکے یہ بات میری سمجھ سے باہر ہو گئی ہے۔یہ تو میں نہیں کہوں گا مگر یہ کہتا ہوں کہ سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔اگر ہمدردانہ طور پر باتیں کرنے کا ذمہ دار لوگ موقع دیتے اور جس طرح میں نے کہا ہے کہ مجھ میں اور جماعت کے لوگوں میں کوئی واسطہ نہیں اسی طرح ناظر اور ہیڈ ماسٹر اور دوسرے ذمہ دار اصحاب طلباء اور اپنے درمیان واسطہ نہ رھیں بلکہ براہ راست انہیں باتیں کرنے دیں تو اس سے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں اور کوئی نقص نہ ہوگا۔میں طالب علموں کو خصوصیت سے پھر توجہ دلاتا ہوں اور آج کا خطبہ تو انہیں کے لئے ہو گیا ہے اس لئے انہیں زیادہ قدر کرنی چاہئے۔میرے پچھلے خطبہ کے نتیجہ میں مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں نے تبلیغی اشتہار کی اشاعت میں حصہ لیا ہے۔مقامی جماعت نے اگر چہ ابھی تک اس کے متعلق کچھ نہیں کیا لیکن مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے دو ہزار اشتہار کا اور جامعہ والوں نے تین ہزار اشتہار کا خرچ اپنے ذمہ لیا ہے۔مدرسہ احمدیہ والے چونکہ پہلے آئے اور جامعہ والے بعد میں اس لئے میں نے مدرسہ احمدیہ والوں کا پہلے نام لیا ہے گو جامعہ کے طلباء تھوڑے ہیں اور انہوں نے زیادہ تعداد میں اشتہار لئے ہیں مگر امید ہے وہ اس ترتیب کی یہ وجہ سمجھ لیں گے کہ الْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّم - مدرسہ ہائی کے طلباء کے متعلق سنا ہے کہ وہ بھی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں استاد دلچسپی نہیں لیتے انہیں معلوم ہو کہ ہم نے طالب علمی کے زمانہ میں صرف سات لڑکوں نے رسالہ جاری کر دیا تھا۔تین روپے ماہوار مجھے جیب خرچ ملا کرتا تھا اس میں سے ایک روپیہ میں رسالہ کے لئے چندہ دیا کرتا تھا۔بے شک اُس زمانہ میں چیزیں سنتی ہوتی تھیں مگر پھر بھی ایک طالب علم کے لئے تین روپوں میں سے ایک دے دینا دوسرے طالب علموں کے لئے بھی تحریک کا باعث ہو سکتا ہے۔ہم