خطبات محمود (جلد 12) — Page 218
خطبات محمود ۲۱۸ سال ۱۹۲۹ء کے دوستوں کی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ چند ایک ایسے لوگ ہیں جو اگر چہ رہتے تو باہر ہیں مگر ان کے دل یہاں ہی ہوتے ہیں جنہوں نے ہجرت تو نہیں کی لیکن روحانیت کے لحاظ سے وہ یہیں ہیں۔وہ اگر چہ شوق سے کام کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی بہت کم ہے اور ان سے بہت زیادہ کی ضرورت ہے۔اگر اسے اپنا کام سمجھا جائے تو بہت سے لوگ بآسانی مل سکتے ہیں اس لئے میں خصوصت سے ان لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو جماعت میں معزز سمجھے جاتے ہیں۔اس زمانہ میں ایک شور پڑا ہوا ہے کہ بڑے لوگ اپنے آپ کو علیحدہ ہی جنس سمجھتے ہیں اور اس میں شبہ بھی نہیں کہ وہ سمجھتے ہیں۔عام طور پر رواج ہو گیا ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں کی دولٹیں بنی ہوتی ہیں اگر چہ ضرورت کے موقع پر چھوٹے اپنے آپ کو بڑے اور بڑے اپنے آپ کو چھوٹے کہنے لگ جاتے ہیں۔دو آدمیوں میں جھگڑا ہو اور انکی اخلاقی حالت اچھی نہ ہو تو دونوں یہی کہتے ہیں جی بڑوں کا لحاظ کیا جاتا ہے چھوٹوں کو کون پوچھتا ہے اور اپنے آپ کو چھوٹا اور مد مقابل کو بڑا ظاہر کرتے ہیں گو حالت یہ ہو کہ کہنے والے کے ہاں اگر ایک دن کا فاقہ ہو تو دوسرے کے ہاں دو دن کا ہو۔اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑوں کو چھوٹا بھی بنالیا جاتا ہے مثلاً کسی جگہ اگر ایسا انتظام ہو کہ بڑے لوگوں کو علیحدہ جگہ دی جائے تو کہا جاتا ہے فلاں ہم سے کس حیثیت میں بڑا ہے ہمیں کیوں یہ موقع نہیں دیا گیا تو اس قسم کے اختلافات موجود ہیں لیکن یہ بجائے ست کرنے کے اختلاف ظاہر کر کے ترقی کا موجب ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے خدا تعالیٰ نے دنیا میں مختلف طبائع پیدا کی ہیں تا اختلاف ظاہر کر کے اپنی صنعت کی خوبصورتی ظاہر کرے۔پس معززین آگے آئیں تا ظاہر ہو کہ وہ سلسلہ کے کام میں اپنے اعزاز کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اس طرح خدمت کرنے سے بڑوں کے دل میں رحم اور چھوٹوں کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔پس جلسہ کے لئے کارکنوں کی جو ضرورت ہے اس کے لئے میں احباب قادیان کو خصوصاً اور باہر کے دوستوں کو عموماً توجہ دلاتا ہوں۔دوسری قربانی جگہ کی قربانی ہے۔ہمارا جلسہ خدا کے فضل سے اس قدر عظیم الشان ہو گیا ہے کہ یہاں کی عمارتیں اب نا کافی ہیں۔سلسلہ کی عمارات تو کسی طرح بھی کافی نہیں بلکہ دوسرے مکانات بھی تنگ ہیں۔میں نہیں سمجھتا جلسہ کے دنوں میں احمدیوں کا کوئی ایسا مکان ہو سکتا ہے جس میں کوئی مہمان نہ ہو لیکن بعض قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔یہاں ایک