خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 203

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء میں نہ ہو گا۔پچھلے دنوں اتحادیوں اور جرمن وغیرہ میں جو لڑائی ہوئی اسے بہت زیادہ خطرناک سمجھا گیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کے مقابلہ میں جو ہمیں درپیش ہے اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے دو بچے آپس میں لڑ رہے ہوں۔اس کا فتح کرنا آسان تھا اور دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے یہ بہت مشکل ہے لیکن تقدیر کا فیصلہ ہے کہ یہ ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی ہے کہ یہ ہو کر رہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا: میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔۔پھر فرمایا: دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۲ خدا اسے قبول کرے گا کے یہ معنے نہیں کہ آئندہ زمانہ میں قبول کرے گا بلکہ یہ ہیں کہ اسے قبول کرائے گا۔اللہ تعالیٰ کی قبولیت کے دو طریق ہوتے ہیں۔ایک ابتداء میں جب ظاہری سامان نہیں ہوتے بحیثیت رحمان اور ایک انتہا پر بحیثیت ملک يَوْمِ الدِّينِ - جبکہ وہ آخری فیصلہ کرتا ہے پس اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے تسلیم شدہ راہنما کے طور پر قبول کرے گا ایک دفعہ وہ اُس وقت قبول کرتا ہے جب کہتا ہے اُٹھ کھڑا ہو اور دنیا کی اصلاح کر۔اور ایک دفعہ اُس وقت جب کہتا ہے اب میں نے تجھے ان لوگوں پر شاہد بنا دیا اور سب دنیا تیرے جھنڈے تلے آ جائے گی۔پس ایک دفعہ تو اس نے اُس وقت قبول کیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو بھیجا اور دوسری دفعہ قبول کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اُس کی کوششوں کو بار آور کرے گا اور دنیا کو منوادے گا۔اور یہ تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہو چکی ہے کہ دنیا نے آپ کو ماننا اور ضرور مانتا ہے۔پس جب ہم ایسے کام کے لئے کھڑے ہوئے ہیں تو اس سے زیادہ سہل بھی کوئی نہیں۔غرض یہ کام اگر ایک بہت سے سب سے زیادہ مشکل ہے تو ایک جہت سے سب سے زیادہ آسان بھی ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے جو تقدیر میں مقرر کر رکھی ہیں وہ بھی دو قسم کی ہیں۔ایک وہ ہیں جو تدبیر سے وابستہ ہیں۔گو خدا تعالیٰ انسانی تدبیر سے بہت بڑھ چڑھ کر نتائج مترتب کرتا ہے لیکن وہ ہوتے تدبیر کی مناسبت سے ہی ہیں اور ایک وہ جن میں وہ تدبیر سے روکتا ہے۔انبیاء کی جماعتوں کی ترقی کو اُس نے تدبیر سے وابستہ رکھا ہے اگر چہ نتائج تدبیر کے لحاظ