خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 204

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء سے بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن بہر حال جتنی تدبیر ہو اُسی نسبت سے زیادہ ترقی نمایاں ہوتی ہے گویا جہاں یہ کام سہل تھا وہاں اسے ایک اور مشکل سے ملا دیا۔پس اس کے لئے ہمارے ہر فرد کے اندر جنون ہو کہ لوگوں تک خدا کا کلام پہنچانا ہے تا ان میں تازگی پیدا ہو اور بیداری رہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ایسا کرنے کی وجہ سے لوگ تمہیں غیر مہذب اور ناشائستہ کہیں گے کہ جہاں بیٹھتے ہیں ایک ہی بات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں لیکن خدا کے کام کے لئے اگر غیر مہذب اور پاگل بھی کہلانا پڑے تو یہ بہت سستا سودا ہے اور درحقیقت جب تک ہم پاگل مجنون نہیں کہلاتے اس کام کو پوری طرح کر بھی نہیں سکتے۔لوگوں کا ہمیں جاہل، نادان پاگل بیوقوف کہنا علامت ہوگی اس امر کی کہ خدا تعالی کا سپر د کیا ہوا کام ہم صحیح طور پر چلا رہے ہیں۔لیکن اگر دنیا ہمیں عقلمند اور مہذب کہے گی تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم کام ٹھیک طور پر نہیں کر رہے۔پس میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جس قدر ہو سکے اشاعت سلسلہ میں کوشش کریں۔غفلت کا یہ نتیجہ ہو گا کہ آئندہ نسلیں بھی کمزور ہو جائیں گی۔جب بچے دیکھتے ہیں کہ ماں باپ میں جوش نہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں یہ کوئی ایسا فعل نہیں جس کے لئے خاص کوشش کی ضرورت ہو۔لیکن جب وہ ماں باپ کی طرف سے مجنونانہ کوشش دیکھیں گے تو ان میں بھی اخلاص پیدا ہوگا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے اندر سلسلہ کی اشاعت کا سچا جوش پیدا کر دے اور ایسا اخلاص عطا کرے جس کے نتیجہ میں ہم میں سے ہر ایک فرد سلسلہ کو اس طرح ترقی کرتا دیکھ لے کہ اسے یقین ہو جائے یہ سلسلہ دنیا میں ضرور پھیل کر ہی رہے گا۔آمین خطبہ ختم کرنے سے پہلے میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے ایک فعل کے متعلق خاص طور پر اظہار خوشنودی کرنا چاہتا ہوں۔گذشتہ جمعہ میں نے جلسہ سالانہ کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی۔مدرسہ احمدیہ میں عام طور پر غریب بچے ہی تعلیم پاتے ہیں لیکن انہوں نے بہت جوش سے چندہ میں حصہ لیا ہے۔سپر نٹنڈنٹ صاحب نے ابھی مجھے بتایا ہے کہ ان کے چندہ کی رقم سو روپیہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔جس میں سے پچاس نقد جمع ہو چکے ہیں جو انہوں نے مجھے دے بھی دیئے ہیں۔اس چندہ میں بعض طلباء نے اپنا جیب خرچ دے دیا اور بعض نے ایسا کیا ہے کہ پانچ طلباء