خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 183

خطبات محمود IAP سال ۱۹۲۹ء تمیں عیسائی تھے۔لڑائی نے طول کھینچا تو حضرت ابو عبیدہ نے صحابہ کو مشورہ کے لئے طلب کیا اور پوچھا اب کیا کرنا چاہئے؟ ایک صحابی (حضرت خالد بن ولید) نے کہا آپ نے ہی ان عیسائیوں کو سر چڑھا رکھا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں ہمارے مقابلہ کے لئے ساٹھ ہزار مسلمانوں کی ضرورت ہے حالانکہ صرف ساٹھ آدمیوں سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے آپ مجھے ساٹھ آدمی دین میں ان پر حملہ کرتا ہوں۔اصل میں تو میں تمہیں ہی چاہتا تھا لیکن مسلمانوں کی جان پر رحم کر کے میں نے ساتھ کہے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ نے اس میں تامل کیا لیکن آخر کار دوسروں کے مشورہ سے ساٹھ آدمی تیار ہو گئے۔انہوں نے تدبیر یہ کی کہ لشکر کے درمیان میں کمانڈر کھڑا تھا جس پر کہ جنگ کا انحصار تھا کیونکہ اُس زمانہ میں جنگ کا یہی دستور تھا۔جب کمانڈر مارا جا تا تو فوج بھاگ جاتی تھی۔اب تو چونکہ نظام بہت وسیع ہو گیا ہے اس لئے کمانڈر کے مارے جانے کا لڑنے والوں کو علم بھی نہیں ہوتا لیکن اس زمانہ میں ایسا نہ تھا اس لئے انہوں نے قلب لشکر پر حملہ کر دیا اور اُس وقت تک دم نہ لیا جب تک کہ ماھان پر جو کمانڈرتھا حملہ نہ کر دیا۔اس کے ارد گرد کے جرنیل مارے گئے اور وہ خود بھاگ گیا جس پر فوج بھی بھاگ گئی۔اگر چہ بعد میں اور صحابہ نے بھی حملہ کر دیا لیکن ابتداء انہیں لوگوں نے کی اور اگر چہ ان میں سے اکثر شہید ہو گئے لیکن جو کام وہ کرنا چاہتے تھے کر گئے۔سومومن کبھی بُز دل نہیں ہوتا۔ایک دفعہ شام سے اطلاع آئی کہ خطرناک جنگ ہو رہی ہے اور اسلامی فوج کو کمک کی ضرورت ہے۔اس پر حضرت عمر نے معدی کرب کو جو ایک صحابی تھے اور بڑے زبر دست پہلوان تھے بھیجا اور لکھا کہ معدی کرب کو جو ایک ہزار کفار کے لئے کافی ہے تمہاری مدد کے لئے بھیجتا ہوں۔اگر آج کوئی ایسا کرے تو شاید اسے پاگل خیال کیا جائے۔پس یا د رکھو یقین اور ایمان کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔دنیا میں تعداد سے اتنا کام نہیں نکلتا جتناجر آتِ ایمانی سے۔مؤمن جس وقت خدا پر یقین رکھتے ہوئے مستانہ وار نکلتا ہے تو لوگوں کی آنکھیں خود بخود اس کے آگے جھکتی چلی جاتی ہیں۔جنگ حنین میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے اور مقابل پر چار ہزار تیر انداز تھے۔لیکن آپ أنَا النَّبِيُّ لا كَذِب انا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب