خطبات محمود (جلد 12) — Page 141
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء کے مطابق ہونا چاہئے سو جاننا چاہئے کہ در حقیقت اس جگہ وہ ترتیب ہی مدنظر نہیں جو خیال کی گئی ہے۔وہ کمزوریاں جن کے دور ہونے کے بعد ترقی ہوتی ہے ان کے لئے سورۃ فاتحہ میں دعا موجود ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں استعانت کا جو ذکر ہے وہ انہی کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔اسی طرح رب العلمین میں اور الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور ملک يَوْمِ الدِّینِ کے میں مخفی طور پر کمزوریوں کے دور ہونے کی دعا موجود ہے۔پس جب عابد ان صفات الہیہ کا ذکر کر کے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے مولیٰ ! تیری مدد اور نصرت کے بغیر میں ہرگز مقام عبودیت کو نہیں پہنچ سکتا تو اُس وقت گویا وہ ایسے مقام کو پہنچ گیا جس میں اس کے عیوب ونقائص دور ہو گئے۔اور پھر اگلے مقام کے حصول کے لئے دعا کرتا ہے اور کہتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - یعنی اے خدا! اب مجھے اپنے مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ بندوں میں شامل فرما لے۔دنیا میں دو قسم کے غلام ہوتے ہیں۔ایک کفش بردار جو ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتے ہیں اور ترقی نہیں کرتے۔دوم وہ جو مصاحبت کا رنگ اختیار کر کے ترقی کرتے ہیں۔جیسے بادشاہ کے وزیر اور دربان دونوں غلام ہوتے ہیں۔مگر ایک کی حیثیت بجز کفش بردار کے کچھ نہیں ہوتی۔وہ اسی حالت میں رہتا ہے۔اور دوسرا اُس مقام کو پہنچ جاتا ہے کہ بادشاہ اس کے پوچھے اور صلاح لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔تو اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا میں یہ بتایا ہے کہ اے ہمارے آقا ! ہماری کمزوریوں کو دور فرما کر ہمیں ایسے مقام تک پہنچا دے کہ ہم تیرے مقرب بن جائیں۔اور تو ہماری مرضی کو اپنی رضا کے مطابق بنا دے۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں سالک اپنے آقا کی مرضی کے ماتحت چلتا ہے اور آقا سالک کی مرضی کا لحاظ رکھتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا کی غرض کچھ اور ہے نہ کہ وہ جو بظاہر خیال کی جاتی ہے۔نْعَمْ عَلَيْهِمُ گروہ میں داخل ہونے کی دعا کے بعد عابد کہتا ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یعنی اے آقا ! مجھے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور الضَّالِّينَ ہونے سے بچانا۔انسانی حالت بھی بعینہ یہی ہے پہلے بچہ ہونے کی حالت میں کمزور ہوتا ہے پھر جوان ہو کر