خطبات محمود (جلد 12) — Page 74
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء کریم کی تعلیم کا صرف پیش کرنا ہی کافی تھا اور یہ بتانا ہی اس کی برتری کی دلیل تھی کہ اس میں توحید کی تعلیم ہے یہ اخلاقی حالت کو درست کرتا ہے لیکن آج اتنا کہنے سے کچھ اثر نہیں ہوتا۔آج سوال ہوتا ہے فلسفہ نے جو شبہات ہمارے اندر پیدا کر دیئے ہیں، سائنس نے جو شکوک ہمارے دلوں میں ڈال دیئے ہیں ان کو قرآن حل کرتا ہے یا نہیں ؟ آج زمانہ کے اندر غلامی اور آزادی، گورے اور کائے سرمایہ دار اور مزدور کی جو تمیزیں پیدا ہوگئی ہیں کیا قرآن میں ان کا علاج موجود ہے؟ اگر نہیں تو قطع نظر اس کے کہ یہ سوال غلط ہیں یا صحیح۔اسے مانے کو کوئی تیار نہ ہوگا۔پس اگر ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے تو اس کے احساسات کو تسلی دینی ہوگی۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ اس زمانہ کے حالات مختلف ہیں۔ایک وہ زمانہ تھا جب فتح کے لئے اور ہتھیار استعمال ہوتے تھے لیکن آج إِذَا الصُّحُفُ نُشرت کے ماتحت پرو پیگنڈا ہی کامیابی کا ریعہ ہے۔یہ نشر صحف کا زمانہ ہے اور جب تک ہم یہ طریق اختیار نہ کریں گے ترقی نہیں کر سکتے۔ایک زمانہ میں لوگ اس قدر مصروف نہیں تھے اور فارغ بیٹھ کر باتیں کر سکتے تھے وہ زبانی تبلیغ کا زمانہ تھا لیکن ایک یہ زمانہ ہے جب کام زیادہ ہے اور لوگ ملنے سے گھبراتے ہیں دن کے وقت انہیں تبلیغ کرنی مشکل ہے۔لیکن اگر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ یا اخبار کی کاپی ہو تو اسے ایک مصروف و مشغول انسان بھی بستر پر لیٹے ہوئے نیند کے انتظار میں مطالعہ کر سکتا ہے اور وہ کام جو ہم نہیں کر سکتے وہ ایک اخبار یا ٹریکٹ نہایت آسانی سے سرانجام دے سکتا ہے۔رات کے گیارہ بجے جب کوئی ہمیں اپنے مکان کے اندر نہیں گھسنے دیا ایک ٹریکٹ یا اخبار کو خود تلاش کر کے لائے گا تا نیند کے انتظار کا وقت اچھی طرح گذر جائے۔بسا اوقات نیند اس پر غالب آ جائے گی اور وہ اس تحریک کو ختم نہ کر سکے گا لیکن وہ اونگھ کی گھڑیاں اس تحریر کو اس کے دماغ پر مکرر۔سہ کز مختلف رنگوں میں نقش کر رہی ہونگی اور صبح کو وہ ایک خاص اثر لے اٹھے گا۔میں نے خصوصیت کے ساتھ اس سال کے پروگرام میں نشر و اشاعت کا کام بھی رکھا ہے اور سالانہ جلسہ پر اپنی جماعت کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔اس خطبہ کے ذریعہ پھر اس کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ یہ زمانہ نشر و اشاعت کا ہے۔جس ذریعہ سے ہم آج اسلام کی مدد کر سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ صحف و کتب کی اشاعت پر خاص زور دیں۔اگر ہر جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی ایجنسیاں قائم ہو جائیں تو یقیناً بہت فائدہ ہوسکتا ہے لیکن ابھی تک