خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 73

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں فلاں رسول کے زمانہ میں یوں ہوتا تھا فلاں نبی کی جماعت یوں کرتی تھی، تم نبی کی جماعت ہو کر یوں کیوں کرتے ہو۔بے شک تمام انبیاء کی جماعتوں کا مقصد ایک ہی ہے لیکن اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اس کے حصول کے ذرائع میں تغیر ہوتا رہا ہے۔اگر آج ہو بہو وہی ذرائع استعمال کئے جائیں جو پہلے کئے جاتے تھے تو یقینا نا کامی ہوگی۔خدا تعالیٰ نے ہی حضرت بدھ سے کہا اپنے مریدوں سے کہو گلے میں جھولی ڈال لو اور جاؤ دنیا میں بھیک مانگو۔تمہارے لئے وہی رزق طیب ہے جو بھیک مانگ کر مہیا کیا جائے اپنے پاس کوئی پیسہ نہ رکھو۔پھر حضرت عیسی کو بھی اسی خدا نے پیدا کیا لیکن انہیں حکم دیا جا کر مریدوں سے کہو کھاؤ پیولیکن کل کے لئے خزانہ جمع نہ کرو۔کسی سے مانگو نہیں اپنے گھر سے کھا ؤ لیکن خدا سے ہر روز کی روٹی روز مانگو۔پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اسی خدا نے مبعوث کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ بھیک مانگ بلکہ فرمایا بھیک مانگنا ٹھیک نہیں بھیک مت مانگ۔حضرت بدھ کو خدا نے کہا بھیک مانگ لیکن محمد رسول اللہ علیہ کو اسی خدا نے کہا مت مانگ اس لئے کہ بدھ کے زمانہ میں دنیا کے ارتقاء اور ترقی کے لئے بھیک مانگنا ہی ضروری تھا اور محمد رسول اللہ کے زمانہ میں دنیا کے ارتقاء اور ترقی کیلئے بھیک چھڑانا ہی ضروری تھا۔نادان کہتا ہے ایک خدا کی طرف سے دو متضاد تعلیمیں کس طرح ہو سکتی ہیں لیکن وہ ایک ڈاکٹر کے دو نسخے دیکھ کر سبق حاصل نہیں کرتا۔ایک وقت ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر کہتا ہے اسے فاقہ کرایا جائے۔لیکن دوسرے وقت آتا ہے تو کہتا ہے تم نے اسے بھوکا مار دیا اسے یخنی دینی چاہئے یہ دینا چاہئے وہ دینا چاہئے۔اگر کوئی کہے یہ اچھا ڈاکٹر ہے پرسوں کہتا تھا کھانے کو کچھ مت دو اور آج کہتا ہے اسے کھانے کو کیوں نہیں دیتے تو وہ نادان ہے کیونکہ مریض کی صحت کے لئے پرسوں فاقہ ہی ضروری تھا اور آج اس کے لئے کھانا مفید ہے یہی حال قوموں کے علاج کا ہے۔انہی حالات میں میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے۔رسول کریم ﷺ کا زمانہ اور تھا حضرت عیسی حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان، حضرت داؤد اور حضرت نوح کے زمانے اور تھے۔اور ہم نہیں جانتے کہ قیامت تک امت محمدیہ پر ابھی اور کتنے زمانے آئیں گے۔بے شک قرآن کریم وہی رہے گا احکام سنت تبدیل نہیں ہو نگے حدیث نہیں بدلے گی لیکن قرآن وحدیث کے پھیلانے کے ذرائع بدلتے جائیں گے۔ایک زمانہ میں قرآن