خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 531

خطبات محمود ۵۳۱ سال ۱۹۳۰ء محسوس کر لیا کہ ہم میں قابلیت ہے اور یہ ناکامیاں عارضی ہیں اس بات کو سمجھ کر انہوں نے کوشش جاری رکھی اور اس طرح کامیاب ہو گئے۔تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایسی راہ اختیار کر لیتا ہے جس پر چلنے کی قابلیت اس میں نہیں ہوتی اور کبھی عارضی ناکامیوں سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اعلیٰ ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کسی کام کے کرنے کی قابلیت کا پتہ کس طرح لگ سکے کہ فلاں انسان میں فلاں کام کرنے کی قابلیت ہے۔دنیا نے اس کے لئے بڑے بڑے ذرائع اختیار کئے ہیں۔ولایت میں خفیہ پولیس میں کسی کو بھرتی کرنے کے لئے یہ طریق ہے کہ جب کوئی شخص عام پولیس میں بھرتی ہوتا ہے تو بعض تجربہ کار افسر اس کی خاص طور پر نگرانی کرتے ہیں۔اس کی حرکات چلنا پھرنا، ہوشیاری وغیرہ کو دیکھتے ہیں اور نوٹ کر کے افسران بالا کے پاس رپورٹ کرتے ہیں کہ فلاں فلاں آدمی خفیہ پولیس کے قابل ہیں وہاں سے انہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر چاہو تو تم خفیہ پولیس میں بھرتی ہو سکتے ہو۔اسی طرح فوجوں کا حال ہے گورنمنٹ نے اس کے لئے بھی TEST رکھے ہوئے ہیں قدر نا پا جاتا ہے چھاتی دیکھی جاتی ہے اور اس طرح معلوم کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر فوجی ملازمت کی قابلیت ہے یا نہیں۔اسی طرح حکام کے لئے بھی کئی قید میں رکھی ہوئی ہیں عمر اتنی ہو، تعلیم اس قدر ہو' صحت ایسی ہو مگر جنہیں اس طرح چن کر لیتے ہیں ان میں سے بھی بعض نا کام رہ جاتے ہیں۔آخر ہر ملک کی فوج چُن کر ہی تو بھرتی کی جاتی ہے مگر پھر بھی کئی ممالک کی افواج نا قابل ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح وزارتوں وغیرہ کا حال ہے بہتر سے بہتر آدمی منتخب کئے جاتے ہیں مگر پھر بھی بعض اوقات وہ نا قابل ثابت ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح قابلیت کا معیار جو ہے وہ بہت مخفی ہے اور دنیا کو اب تک کوئی ایسا ذریعہ نہیں ملا جس سے پورے طور پر قابلیت معلوم ہو سکے۔ہوائی جہازوں کے لئے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کے اندر ہی ایسے آلات موجود ہوتے ہیں جنہیں ہاتھ میں پکڑنے سے معلوم ہو سکے کہ کسی آدمی کا دل کس حد تک خوف کو برداشت کر سکتا ہے پھر یہ بھی کہ وہ کتنی جلدی بات سمجھ سکتا ہے۔ایسے بھی آلات موجود ہوتے ہیں جن سے سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کا بھی علم ہو سکتا ہے کیونکہ ہوائی جہازوں کے متعلق تو بہت ہی جلد فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔فرض کرو راستہ میں پہاڑ آ جائے یا کوئی طوفان وغیرہ آئے اُس وقت جہاز کو