خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 532

خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۳۰ء فور نیچا اونچا یا ادھر اُدھر کرنا پڑتا ہے اگر آدمی ایسا زیرک نہ ہو کہ سیکنڈ کے بھی بہت تھوڑے عرصہ میں فیصلہ کر سکے تو وہ راستہ تبدیل نہیں کر سکے گا اور اس طرح جہاز تباہ ہو جائے گا۔تو ہوائی جہازوں کے لئے بھرتی کرتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ آدمی کتنی جلدی کسی صحیح فیصلہ پر پہنچنے کی قابلیت رکھتا ہے اور ایسے آلات ایجاد کئے گئے ہیں جن سے سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کا بھی پتہ چلتا ہے اور ایسے کاموں میں سیکنڈ کے دسویں حصے کی دیر بھی مہلک ثابت ہو جاتی ہے مگر اس قدر احتیاط کے باوجود بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور کئی لوگ نا کام رہ جاتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ صحیح طور پر قابلیت کے معلوم کرنے کا کوئی معیار انسان کے پاس نہیں ہاں ایک اور ہستی ہے جو عالم الغیب ہے اور جو سب باتوں کو جاننے والی ہے اور وہ اگر بتادے تو کوئی شبہ نہیں رہ سکتا۔قرآن کریم میں اس حقیقت کا خاص طور پر ذکر ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فوج کے متعلق آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے بچالیا اور فرعون کو تباہ کر دیا حالانکہ وہ بہت بڑا بادشاہ تھا اس نے ظلم کر کے بنی اسرائیل کی طاقت کو کچل دیا تھا قرآن کریم میں آتا ہے۔إِنَّهُ كَانَ عَالِيًّا مِنَ الْمُسْرِفین عالی کے لفظ میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ صاحب شان و شوکت تھا اور مشرفين میں بنی اسرائیل کی تباہ حالی کا ذکر ہے جو فرعون نے پیدا کی گویا اس کی اپنی طاقت تو انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کی طاقت اس نے کچل دی تھی ان کے اخلاق تباہ کر دئیے تھے مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے اسے تباہ کر دیا۔یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے عظیم الشان بادشاہ کو کیوں تباہ کر دیا گیا اور بظاہر نا کارہ قوم کی خاطر اس کام کرنے والے کو کیوں برباد کر دیا گیا۔چاہئے تو یہ تھا کہ اسے قائم رکھا جاتا اور اسی سے کام لیا جاتا ظاہر میں تو بنی اسرائیل تمام قابلیت کھو چکے تھے اور فرعونیوں کے اندر ہر قسم کی قابلیت نظر آ رہی تھی مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔وَلَقَدِ اخْتَرْنَهُمْ عَلى عِلْمٍ عَلَى الْعَلَمِينَ " ہم نے جب بنی اسرائیل کو چنا تو یہ جانتے ہوئے کہنا تھا کہ ان میں ترقی کرنے اور روحانی امور کے سمجھنے کی طاقت موجود ہے اور اس زمانہ کی سب قوموں سے زیادہ موجود ہے۔اب غور کرو خدا تعالیٰ کی نگاہ کہاں جا کر پڑی۔حکومت فوج میں بھرتی کرنے کے لئے طاقت وغیرہ دیکھتی ہے اور قد آور لوگوں کو لیتی ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ کئی بڑے بڑے قد آور اور بڑے چوڑے چکلے سینہ والے کئی دفعہ ذرا سے کھٹکے سے ڈر کر مر جاتے ہیں خوف سے ان کے دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے اور کئی چھوٹے