خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۳۰ء جاتے تھے کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ قادیان میں بہت بڑا دجالی فتنہ ہے۔کئی آدمی ہماری جماعت میں آج بھی ایسے موجود ہیں جو کف افسوس مل رہے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان کیوں نہ آئے وہ بٹالہ یا امرتسر سے محض اس لئے کوٹ گئے کہ دشمنوں نے ان سے بعض ایسی باتیں کہیں جنہیں سن کر انہوں نے قادیان آنا پسند نہ کیا۔اگر وہ اُس وقت پہنچ جاتے تو صحابہ میں داخل ہو جاتے۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر احمدیت میں تو داخل کر دیا مگر صحابیت سے محروم رہ گئے۔سب سے پہلا جلسہ جو قادیان میں ہوا اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد اتنی قلیل تھی کہ آج اس مسجد میں نماز جمعہ کے لئے جتنے لوگ جمع ہیں ان کا بھی چھٹایا ساتواں حصہ ہوں گے اور اُس وقت کے لحاظ سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بڑی عظیم الشان کامیابی ہوئی ہے۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ پہلا جلسہ تھا یا دوسرا تیسرا یا چوتھا مگر اتنا یاد ہے کہ جہاں اب درزی خانہ ہے یعنی مبک ڈپو کے سامنے کا کمرہ وہاں نیلے سے رنگ کی ایک دری بچھائی گئی تھی میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہاں کیا تقریر ہو رہی تھی کیونکہ اس وقت میری عمر چھوٹی تھی مگر اتنا یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں گئے تھے اور لوگ صرف اتنے تھے جو سب اُس دردی پر بیٹھے ہوئے تھے۔گویا اُس جلسہ میں اتنے آدمی تھے جتنے شادی کے موقع پر عام طور پر معمولی برات میں ہوتے ہیں۔ایک تو وہ دن تھے پھر ایک یہ دن کہ اب قادیان کی وسعت ہماری عمارتوں کی وسعت سلسلہ کی عمارتوں کی وسعت احباب کی عمارتوں کی وسعت اور دوستوں کی اس قربانی کے باوجود کہ وہ اپنے مکان مہمانوں کے لئے دے دیتے ہیں پھر بھی نہ صرف غیر احمدیوں سے بلکہ ہندوؤں سے بھی ہمیں مہمانوں کے ٹھہرانے کے لئے مکان لینے پڑتے ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا آخری جلسہ یاد ہے میں سیر میں ساتھ تو نہیں تھا مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر سے واپس گھر آئے تو فرمایا اب تو جلسہ پر اتنے آدمی آتے ہیں کہ آئندہ جلسہ پر سیر کے لئے جانا بالکل مشکل ہو جائے گا۔آج تو تھوڑی دور گئے مگر اس قدر گرد و غبار اُٹھا کہ آگے جانا مشکل ہو گیا اُس وقت اندازہ کیا گیا تو قریباً سات سو آدمی جلسہ پر آئے تھے یعنی اس وقت جتنے اس مسجد میں بیٹھے ہیں ان سے بھی کم اس جلسہ پر تھے۔اُس سال کے جلسہ کی تقریریں تو مجھے یاد نہیں اتنا یاد ہے کہ اس مسجد کے صحن میں جو