خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 472

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء گے مگر اس طرح جوش قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ڈھا کہ میں فسادات ہوئے جن کے نتیجہ میں کئی مسلمان برباد ہو گئے۔وہاں کے رؤسا کے دستخطوں سے میرے پاس پیٹھی آئی ہے کہ مسلمان فاقوں مر رہے ہیں مگر دوسرے مسلمانوں کو کوئی پرواہ نہیں اور ان میں کوئی جوش پیدا نہیں ہوا۔ایسے واقعات متواتر اور مختلف مقامات پر پیش آ رہے ہیں اور مقامات ایسے پچھنے جاتے ہیں جہاں یا تو مسلمان ہیں تو زیادہ تعداد میں مگر ایسے کمزور ہیں کہ ان کو ڈرا کر مرعوب کیا جا سکتا ہے جیسے ڈھا کہ میں یا پھر ایسے مقامات جہاں ہند و جنگی اقوام آباد ہیں اور مسلمان تعداد میں بہت کم ہیں تا مسلمانوں پر رعب ڈالا جا سکے۔کیا ہی عجیب بات ہے کہ ۱۹۲۷ء میں مالویہ جی ایک مجلس میں شامل ہوئے وہاں یہ سوال پیش ہوا کہ سیاسی حقوق کا باہمی فیصلہ کر لیا جائے۔اُس وقت پنڈت مالویہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور رقت کے ساتھ انہوں نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ ہند و مسلمان تو ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں اور ہم یہاں بیٹھے سیاسی حقوق کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلمانوں کو گلے ملاویں لیکن اس وقت وہی پنڈت مالویہ انگریز کے بائیکاٹ پر لیکچر دے رہے ہیں اور انہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہ آیا ہوگا کہ ہندو مسلمانوں کو گلے ملانا چاہئے۔اُس وقت ہندو مسلمانوں کے تفرقہ پر آنسو بہانا ہی ان کی قوم کے لئے مفید تھا اس لئے انہوں نے ایسا ہی کیا اور اب ان کے لئے یہی مفید ہے جو وہ کر رہے ہیں۔پنڈت مالو یہ بینگن کے ملازم نہیں بلکہ راجہ کے ملازم ہیں کہتے ہیں کسی راجہ نے بینگن کی بہت تعریف کی اس پر ایک درباری نے جو خوشامدی تھا تعریفوں کے پل باندھ دیئے اور کہنے لگا حضور اس کی شکل ہی نہایت دلر ہا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی صوفی زاویہ میں بیٹھا خدا کی عبادت کر رہا ہے۔لیکن کچھ دنوں تک بینگن کھانے سے راجہ کو بواسیر ہوگئی تو اس نے کہا میں تو بینگن کو اچھا سمجھتا تھا لیکن یہ تو تکلیف دہ چیز ثابت ہوئی۔اس پر اسی درباری نے اس کی بُرائیاں بیان کرنا شروع کر دیں اور کہا حضور اس کی شکل ہی گھناؤنی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کے ہاتھ منہ نیلے کر کے اسے پھانسی پر لٹکا رکھا ہو۔کسی نے اسے کہا ابھی تھوڑے دن ہوئے تم اس کی اتنی تعریفیں کر رہے تھے اور آج اس کی برائیاں بیان کر رہے ہو۔کہنے لگا میں راجہ کا ملازم ہوں بینگن کا ملازم نہیں ہوں۔اسی طرح پنڈت مالویہ ہندو قوم کے نوکر ہیں اگر انہیں ہندوؤں کو مسلمانوں ! کے گلے ملانے میں فائدہ ہو یا ہندو قوم کے گلے زیادہ تعداد میں کٹ رہے ہوں تو وہ اس