خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 432

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء پر الزام لگانے والے خواہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتے۔دوسری بات یہ ہے کہ جو اطلاعات باہر سے آئی ہیں ان سے دشمنوں کا منہ کالا ہو گیا ہے۔اگر چہ حق کے دشمنوں کے چہروں پر سیاہی تو پہلے ہی ہوتی ہے مگر اس سے وہ اور بھی روسیاہ ہو گئے ہیں۔ہمارے مخالف یہ کہتے تھے کہ در اصل ساری جماعت خلیفہ کی مخالف ہے صرف چند ایک مقامی لوگ جو ایک جگہ بیٹھ کر چندہ تقسیم کر لیتے ہیں موافق ہیں مگر اس خبر نے جماعت پر جو اثر کیا اس سے مخالفوں کے منہ بالکل سیاہ ہو گئے۔اگر جیسا کہ یہ لوگ مشہور کر رہے تھے جماعت مخالف ہوتی تو چاہئے تھا کہ اس خبر کو سن کر شکریہ کے ریزولیوشن پاس کئے جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بلا سے نجات دی مگر اس موقع پر جماعت نے جو رویہ اختیار کیا وہ بتاتا ہے کہ ہماری جماعت محبت اور اخلاص کے ایسے اعلیٰ مقام پر ہے جس کی نظیر عظیم الشان نبیوں کی جماعتوں کے سوا کہیں نہیں مل سکتی۔میرے پاس ڈاک سے جو واقعات آئے ہیں اور جو باتیں دوستوں نے زبانی سنائی ہیں وہ ایسی ہیں کہ انہیں سُن کر دنیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں۔درحقیقت وہ دن جب تک اس خبر کی تردید نہ ہو گئی معتد بہ لوگوں کے لئے ایسا تھا کہ گویا قیامت برپا ہوگئی ہے۔اگر واقعہ میں جماعت کے اندر سے اخلاص مٹ چکا تھا، اس کا خلیفہ سے کوئی تعلق نہ تھا، وہ خلیفہ کو مصیبت سمجھتی تھی تو یہ جوش کیوں پیدا ہوا۔باہر تو باہر خود قادیان کے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ میرے گھر والوں نے سنایا ایک عورت میرے پاس سے اُٹھ کر گئی اُس کا لڑکا لاہور سے اسی وقت آیا اور اس نے سنایا وہاں ایسی خبر مشہور ہے۔وہ عورت اُسی وقت دوبارہ لوٹ کر آئی اور جب تک آپ کی صحت کے متعلق مجھ سے دریافت نہ کر لیا اسے تسلی نہ ہوئی۔اور باہر سے آنے والوں کی حالت یہ تھی کہ باوجود یکہ اس کی تردید ہو چکی تھی مگر وہ یہی کہتے تھے جب تک ہم خود دیکھ نہ لیں ہمیں چین نہیں آئے گا۔مجھے اس دن سر درد کا دورہ تھا مگر آنے والے دوستوں سے ملنا پڑتا تھا۔اس سے دشمنوں پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ محبت سلسلہ اور محبت امام سے جماعت عاری ہو چکی ہے بالکل جھوٹ ہے بلکہ وہ زیادہ ترقی کر رہی ہے۔تیسری چیز جو اس سے ظاہر ہوئی ہے وہ یہ ہے جیسا کہ باہر کی جماعتوں نے اطلاع دی ہے اور بہت سی جگہوں سے خبریں آئی ہیں کہ نہ صرف جماعت کے لوگ بلکہ دوسرے لوگ بھی جو سلسلہ کے قطعا خلاف ہیں اس خبر سے پریشان تھے بلکہ بعض جگہ پر تو دوسرے مسلمانوں کا معتد بہ حصہ ہماری جماعت کے ساتھ غم میں ایسا شریک تھا کہ گویا خودان