خطبات محمود (جلد 12) — Page 433
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء کے اپنے گھروں میں کوئی مصیبت ہے۔اور ایک دوست نے بتایا کہ ایک پرنسپل صاحب یہ سن کر کھانا نہ کھا سکے۔بعض جگہ غیر احمدی عورتیں اور بچے بھی اس خبر کو سن کر رو ر ہے تھے بلکہ بعض جگہ تو ہندو بھی غم میں شریک ہوئے۔اور مسلمانوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اگر چہ ہمیں اصولی اختلاف ہیں لیکن دوسرے امور میں مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچ رہا تھا۔اِس سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت، آپ کا رُعب اور ادب و احترام دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی گھر کر چکا ہے کیونکہ یہ کام در اصل حضور کا ہی ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ لوگ کسی ڈریا رعب کی وجہ سے یا شرم و حجاب کے باعث یا دنیاوی ترقیات سے محروم ہو جانے کے خیال سے یا دوستوں اور عزیزوں کے چھوٹ جانے کے خوف کے باعث جماعت میں داخل ہونے کی جرات نہ کر سکیں۔روحانی نظر والے کے لئے اس میں ایک اور بھی نشان ہے۔انبیاء کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مردوں کو زندہ کیا کرتے ہیں یہ نشان ہماری جماعت میں بھی ظاہر ہوا ہے اور ایسا مردہ زندہ ہوا ہے جس کے متعلق پہلے خود دشمن نے اقرار کیا کہ مرگیا ہے اور پھر خود اعلان کیا کہ وہ زندہ ہے اور یہ ایک ایسا معجزہ ہے جس کا اعتراف خود دشمن نے کیا یعنی مُردہ ہونے کی بھی اس نے شہادت دی اور پھر زندہ ہونے کی بھی۔اور روحانی طور پر یہ بھی ایک معجزہ ہے اور یہ صرف لطیفہ ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دنوں بہت سے دوستوں نے نہ صرف پنجاب میں بلکہ دوسرے مقامات پر بھی ایسے خواب دیکھے کہ گویا انہوں نے میرے مرنے کی خبر سنی ہے جس سے ان کے دلوں میں غم پیدا ہوا اور انہوں نے بہت زور سے دعائیں شروع کر دیں۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ دعا سے تقدیر کو بھی ٹال دیتا ہے ہاں جب اس کی تقدیر ایسے مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ اس کا بدلنا و ہ مناسب نہیں سمجھتا تو اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں کو کسی اور رنگ میں پورا کر دیتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔کہ دعائیں اس قدر زور اور اس قدر اخلاص سے پُر ہوتی ہیں کہ خدا تعالی کو اپنی تقدیر بدلنی پڑتی ہے۔اگر تو دعائیں غالب آجائیں تو وہ تقدیر کوکسی اور رنگ میں پورا کر دیتا ہے اور اگر تقدیر ایسے مقام پر پہنچ چکی ہو کہ وہ دعاؤں پر غالب ہو تو پھر دعاؤں کو کسی اور رنگ میں پورا کر دیتا ہے۔اس کی میں ایک ایک مثال سُنا دیتا ہوں۔ایک شخص کے متعلق جو سپیرا تھا لکھا ہے کہ اس نے ایک نہایت عمدہ قسم کا سانپ پکڑا جو رات کو کہیں غائب ہو گیا چونکہ اس کے ذریعہ بہت کچھ فوائد حاصل کرنے کی وہ امیدیں اپنے دل میں رکھے ہوئے تھا اس لئے اس کے کھوئے