خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 424

خطبات محمود ۴۲۴ جائیں اور بجائے کوئی اور مفید کام کرنے کے بیٹھے کھڈ رہنا کریں اور اس طرح ملک کی طاقت ضائع ہو گی۔ہاں اگر یہ شرط ہو کہ ہندوستان کا بنا ہوا کپڑا پہنا جائے تو یہ بات قابل عمل ہو سکتی ہے بشر طیکہ اس میں بائیکاٹ کی تحریک شامل نہ ہو۔وہی کام درست ہو سکتا ہے جو اپنے فائدہ کیلئے کیا جائے نہ کہ دوسرے کے نقصان کیلئے۔تو تحریک اگر یوں ہوتی کہ ہندوستان کا بنا ہوا کپڑا پہنا جائے تو بہت اچھا ہوتا۔ہندوستان میں بھی بمبئی اور احمد آباد وغیرہ مقامات پر کپڑے کے بہت بڑے کارخانے ہیں اور نئے کھل سکتے ہیں۔پس ملکی کپڑا پہنے کی تحریک ہونی چاہئے تھی نہ کہ کھدر کی ہاں جن کو کھد ر میسر آئے وہ ضرور کھڈر پہنیں۔مثلاً زمیندار لوگ ہیں ان کی عورتیں سوت کا نتی ہیں اور وہ اپنے جلا ہوں سے کھدر بنوا کر پہن لیتے ہیں۔ایسے لوگ ضرور پہنیں کیونکہ وہ اگر اس کا پہننا چھوڑ دیں گے تو ان کی عورتیں بیکار رہیں گی۔مگر یہ خیال کہ تعلیم یافتہ لوگ جو دوسرے مفید کام کر سکتے ہیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کھڈ رہنا اور پہننا شروع کر دیں نہایت فضول بات ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک چوہڑے کا کام نمبر دار کے سپرد کر دیا جائے اور بجائے اس کے کہ وہ گاؤں کی نگرانی کرے اور جھگڑوں وغیرہ کا تصفیہ کرے اس سے کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا کام لیا جائے یا ڈپٹی کمشنر کو کسی اور ادنی کام پر لگا دیا جائے۔پس اس تحریک سے کوئی فائدہ تو نہیں لیکن نقصان ضرور ہے۔خلافت کے دنوں میں کہا جاتا تھا اس تحریک سے مسلمان جولا ہوں کو فائدہ ہوگا لیکن وہ جو لا ہے آج بھی ویسے ہی غریب ہیں جیسے پہلے تھے۔ہندو تاجر جاپان سے کھڈ رمنگوا لیتے ہیں اور انگریزی کپڑا اگر پانچ آنے گز پکتا ہے تو وہ جاپانی کھد ر آٹھ آنے گز فروخت کرتے ہیں اور اس طرح پہلے سے بھی زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور اس تحریک کے ذریعہ پہلے سے بھی زیادہ مقدار میں روپیہ ہندو بنیوں کے ہاتھوں میں پہنچ رہا ہے۔مسلمانوں کو تو اس سے کوئی فائدہ پہنچا نہیں اور نہ ہی مسلمان جولا ہوں کی حالت میں کوئی تغیر ہوا ہے۔اگر ہندوستان میں ہی سارا کھڈ ر تیار ہو اور وہ بھی پیشہ ور جو لا ہے تیار کریں تو البتہ مسلمان جولا ہوں کو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اس بات کا پہلے ہی انتظام کر لیا گیا کہ ہندوؤں کا روپیہ مسلمان جولا ہوں کے گھر میں نہ جائے اور یہ قرار دیا گیا کہ ہر شخص خود اپنے گھر میں کھڈ رہن لیا کرے۔اس کے علاوہ ہندوستان میں کپڑے کے جو کار خانے ہیں ان میں لاکھوں ہندوستانی کام کر رہے ہیں جن کی مزدوری عام جو لا ہوں سے بہت زیادہ ہے اور اس تحریک سے وہ لوگ بھو کے مر