خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 408

خطبات محمود ۴۰۸ سال ۱۹۳۰ء والوں کی تعداد اچھی رہی لیکن اب دو اڑھائی ماہ سے پھر کمی واقع ہو گئی ہے۔اگر جماعت ایک دو سال ہی زور سے تبلیغ کرے تو پھر لوگ خود بخود جماعت میں داخل ہوتے جائیں گے جیسے ضلع سیالکوٹ اور گورداسپور میں ہوا ہے۔جہاں جتھے ہو جائیں وہاں چونکہ تکالیف کا خوف نہیں رہتا اس لئے عام لوگ داخل ہونے سے ڈرتے نہیں۔میں دیکھتا ہوں سالہا سال سے ضلع سیالکوٹ میں کوئی مبلغ نہیں گیا مگر اس علاقہ میں احمدیت برابر پھیلتی جا رہی ہے اسی طرح گورداسپور کے ضلع میں بھی۔اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ جماعت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ آدمی ایسے ضرور ہوتے ہیں جن میں جوش ہوتا ہے اور وہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں دوسرے یہ کہ خوف نہیں رہتا۔پس اگر ایک دو سال ہی پوری سرگرمی سے تبلیغ کی طرف توجہ کی جائے تو پھر احمدیت میں داخل ہونا بہت آسان ہو جائے گا۔پھر یہ خیال نہیں ہو گا کہ لوگوں کو احمدیت میں داخل کس طرح کیا جائے بلکہ یہ سوال ہوگا کہ ان کی تربیت کس طرح کی جائے۔پس تھوڑی سی ہمت اور کوشش کی ضرورت ہے اگر دوست تھوڑی سی تکلیف اُٹھا کر تبلیغ پر زور دیں تو احمدیت کی قبولیت عام ہوسکتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ توفیق دے کہ ہم اپنے فرض کو پوری طرح ادا کر سکیں اور پھر ہماری مدد بھی کرے تا ہم تھوڑے ہونے کے باوجود زیادہ کام کر سکیں۔الذريت: ۵۷ الفضل ۲۳ مئی ۱۹۳۰ء) ے بخارى كتاب الزكوة باب أخذ صدقة التمر عند صرام النخل